خوابوں کی راہ میں حائل معاشرتی دوغلا پن

خواب دیکھتا ہر انسان ہے، مگر اُن خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھنا چند ہی کو نصیب ہوتا ہے۔ کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن کو دیکھ تو انسان اکیلے لیتا ہے مگر اُن کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے ایک صرف اسی انسان کی اپنی ہمت، حوصلہ اور کوشش ہی کی نہیں بلکہ اپنوں کے ساتھ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ خوابوں کا سفر طے کرتے وقت ایک ’’ڈریمر‘‘ کو ایسے مسیحا کی، ایسے ساتھ کی خواہش بھی لاحق رہتی ہے، جو اُسے ہر منزل پر سراہنے اور ہمت بندھانے کے لئے موجود رہے، مگر افسوس کہ ایسا مسیحا اور ایسا کسی بھی قسم کا ساتھ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
بات اگر ایک لڑکی کے خوابوں کی ہو تو، اُسے ایسا مسیحا ملنا تو درکنار الٹا خوابوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے والے بہت سے انسان باآسانی مل جاتے ہیں۔ خوابوں کی جنت میں رہنے والی ایک ایسی ہی لڑکی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔
زندگی میں کچھ بہت الگ اور اچھا کرنا ہے، یہ سوچ اُس کے ذہن میں بیٹھ چکی تھی مگر اُسے ستم ہی کہا جائے کہ اُس نے ایک ایسے روایتی معاشرے میں آنکھ کھولی تھی جہاں لڑکیوں کے ایسے بڑے بڑے خواب دیکھنا حماقت اور معیوب بات ہی گردانی جاتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو آج اکیسویں صدی میں بھی ہوتے ہوئے وہی اپنی ازلی روایتی اور دقیانوسی سوچ کا پیروکار تھا۔ وہ معاشرہ دوغلے پن کا شکار تھا جہاں ایک طرف تو آزادی نسواں کے بلند وبانگ نعرے بلند کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف آج بھی ایک لڑکی جو کچھ اچھا اور تعمیراتی کام کرنے کیلئے گھر سے نکلنا چاہے تو اُسے آوارہ اور خودسر جیسے القاب سے نواز دیا جاتا ہے۔
اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اُس کا کوئی بھی خواب پورا نہ ہوا تھا، اُس کے بہت سے خواب، ایک اچھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا، ایک پروفیشنل ڈگری لینا اور اچھی نوکری حاصل کرنا، یہ سب خواب اُس کے گھر والوں کے ساتھ کی بناء پر ہی تو پورے ہو پائے تھے، مگر خوابوں کا سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ خوابوں کی وادی ایک ایسی وادی ہوتی جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ انسان اگر اُس وادی میں داخل ہوجائے تو نکل نہیں پاتا۔ ایک خواب پورا ہوتا ہے تو انسان دوسرا دیکھ لیتا ہے اور پھر اُس نئے خواب کی تکمیل انسان کو بے چین کئے رکھتی ہے۔ ایسی ہی وادی میں وہ بھی داخل ہوچکی تھی۔ اُسے مزید تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تھی اور بہت سے ’پروفیشنل سیکٹرز‘ میں خود کی قسمت آزمائی کرنی تھی، مگر اب اگر وہ کسی ایسی خواہش کا اظہار کرتی تو کیا ضرورت ہے اور پڑھنے کی؟ ایک ڈگری تو ہے پاس، اچھی نوکری بھی مل چکی، کیوں ناشکری کر رہی ہو؟ یہ وہ سب باتیں تھی جو اُسے سننے کو ملتی تھیں۔
ایسی نصیحتیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے کہ علم کا سمندر تو بہت گہرا ہے، انسان اگر ساری زندگی بھی پڑھتا رہے تو پھر بھی اس سمندر کے ایک قطرے جتنا بھی علم وہ خود میں سمو نہ پائے گا، اور یہ تو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا بھی فرمان ہے کہ،
’’گود سے لیکر گور تک علم حاصل کرو‘‘۔
تو پھر کیوں آج بھی کچھ معاشروں میں صرف ایک ڈگری کے بعد لڑکیوں کیلئے تعلیم کا سلسلہ تقریباً ختم ہی سمجھا جاتا ہے؟ ایسا نہیں تھا کہ اُس کے سارے خواب صرف اپنی ذات سے ہی وابستہ تھے۔ خوابوں کی ایک لمبی فہرست میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ وہ ایک ’’شیلٹر ہاؤس‘‘ بنائے جو آج کے نام نہاد پناہ گھروں سے یکسر مختلف ہو، جہاں صیح معنوں میں لوگوں کو اپنا تحفظ محسوس ہوتا ہو۔ ہمدردی کا جذبہ لئے ہوئے اُس نے ایسے بہت سے خواب دیکھ رکھے تھے۔ یہ سارے خواب تو تبھی پورے ہوپاتے اگر وہ پہلے خود قابل بن پاتی۔ اُسے کھلے آسمان میں ایک پنچھی کی طرح آزاد اُڑنے دیا جاتا، مگر معاشرتی دوغلے پن نے تو اُسے ایک ایسا زخمی پنچھی بنادیا جس کے پر کاٹ دیئے ہوں اور اسے اُڑنے کیلئے کسی کی مدد درکار ہو۔
معاشرے کی چند دقیانوسی روایات کا پاس رکھنے کی مجبوری میں اُس کے گھر والے بھی اب اُس کے لیے مسیحا نہیں بن پارہے تھے۔ ہمارے کچھ معاشرے جو آج بھی دوغلے پن کا شکار ہیں، آخر انہیں اور کتنا وقت چاہیئے کہ وہ اپنی سوچ بدل سکیں۔ ایسے معاشرے یا تو آزادیِ نسواں کے بلند وبانگ نعرے لگانا بند کردیں یا پھر مسیحا بنیں۔ معاشرتی روایات کا پاس ضروری ہے مگر چند فرسودہ اور غیر ضروری روایات کو ختم کردیا جائے تو ہی بہترین ہے۔ ایسی روایات کی بیڑیوں میں عورت کو اِس حد تک نہیں جکڑ کر رکھ دینا چاہیئے کہ وہ ہر پل خود کو خوابوں کی جنت میں رہتے ہوئے بے بسی کی دوزخ میں بھی جلتا ہوا محسوس کرے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ blog@weeklysangeet.pkای میل کریں۔