میلے اب بھی ضروری ہیں میاں عمران احمد

اکرم لاہوری سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی گھر سے نکل جاتا اور سورج غروب ہونے کے بعد گھر لوٹ آتا۔ ماں اِس عادت سے بیزار ہوچکی تھی۔ اُس نے تنگ آکر اکرم سے کہا کہ تم سارا دن آوارہ گردی کرتے ہو، کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ اکرم لاہوری نے جواب دیا۔

ست دن تے اُٹھ میلے
میں کم کراں کیہڑے ویلے

(یعنی کہ ماں ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں، لیکن لاہور میں آٹھ دن میلے لگتے ہیں تو میں کس دن کام کروں؟)

میلے ٹھیلے زمانہ قدیم سے لاہورکی پہچان رہے ہیں، اور زندہِ دلان لاہور اِن میلوں کی تیاری بھی خوب بڑھ چڑھ کر کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ میلے افسانوی کہانیوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ہماری آج کی نسل اِن میلوں کو فرضی کہانی سمجھتی ہے۔ اب میلے منعقد کروانے کی روایت معدوم ہوتی جا رہی ہے اور جو میلے منعقد کروائے جارہے ہیں وہ اپنا مقام اور روح کھوتے جارہے ہیں۔ آپ مشہورِ زمانہ چھڑیوں کے میلے کی مثال ہی لے لیجئے۔ یہ میلہ مستی دروازے کے باہر لگتا تھا، اِس میلے میں بازی گر چھڑیوں کے کمالات دکھاتے تھے۔

لمبے لمبے بانسوں کو بڑی مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ باندھا جاتا جو دو تین منزلہ اونچے ہوجاتے تھے۔ اِن بانسوں کے ساتھ رنگ برنگے کپڑے باندھ دیئے جاتے، پھر ماہر چھڑی باز اِن دو، تین منزلہ بانسوں کو کبھی ٹھوڑی پر، کبھی پیشانی پر، کبھی ہاتھ پر کھڑا کرکے نچاتے اور کبھی صرف اپنے ہاتھ کے انگوٹھے پر کھڑا کرکے اپنے فن کے کمال دکھاتے تھے لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ لاہور میں اب نہ تو یہ میلہ ہوتا ہے اور نہ ہی ماہر چھڑی بازوں کی مہارت دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اِس کے علاوہ بیساکھی کا میلہ لاہور کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل رہا ہے، یہ میلہ بھی ماضی کی یادوں کا حصہ بن چکا ہے اور دوبارہ زندہ ہونے کیلئے حکومتِ پنجاب کی توجہ کا منتظر ہے۔ کچھ میلے آج بھی لاہور میں منعقد ہوتے ہیں لیکن یہ میلے آہستہ آہستہ لوگوں کی یادوں سے محو ہوتے جارہے ہیں۔ اِن میں قابل ذکر پار کا میلہ ہے یہ میلہ دریائے راوی کے پار مغل بادشاہ جہانگیر کے مقبرے پر لگتا ہے، چونکہ یہ میلہ راوی کے پار لگتا ہے اس لئے اسے ’’پار کا میلہ‘‘ کہتے ہیں۔ رات کو مقبرہِ جہانگیر پر چراغاں ہوتا ہے۔ مقبرے کے باغ میں مختلف لاہوری پکوان پکتے ہیں۔ اِس میلے کو زندہ دلانِ لاہور بہت دھوم دھام سے منایا کرتے تھے لیکن حکومت کی عدم دلچسپی اور ناقص انتظامات کی بدولت اب یہ میلہ صرف رسمی طور پر منعقد ہوتا ہے اور اپنی اصل شناخت کھوچکا ہے۔

لاہور میں عرس داتا گنج بخش کا میلہ آج بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اِس موقع پر داتا صاحب کے مزار کے ساتھ ساتھ سارے علاقے کو برقی قمقموں کی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے۔ زائرین لاکھوں کی تعداد میں اِس میلے میں شرکت کیلئے آتے ہیں۔ یہ بڑا عظیم الشان میلہ ہوتا ہے، مزار کے باہر موچی اور ٹکسالی تک دکانیں لگتی ہیں۔ حکومت کی دلچسپی کے باعث یہ میلہ آج بھی اپنی اہمیت اور رونق برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اِن سب میلوں میں سب سے مشہور میلہ، ’’میلہ چراغاں‘‘ ہے۔ اِس میلے کی نسبت پنجاب کے صوفی شاعر شاہ حسین سے ہے۔ پہلے یہ میلہ شالیمار باغ کے اندر لگتا تھا لیکن اب یہ باغ کی چار دیواری کے گرد اور جی ٹی روڈ پر لگتا ہے۔ میلہ چراغاں مارچ کے مہینے کے آخری ہفتے کے اتوار کو لگتا ہے۔ پہلے یہ میلہ پورے پنجاب کی توجہ کا مرکز رہتا تھا۔ پورے پنجاب حتیٰ کہ ہندوستان سے بھی لوگ اِس میلے میں شرکت کیلئے لاہور آتے تھے لیکن حکومت کی عدم دلچسپی کی بدولت یہ میلہ صرف علاقے کے مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن کر رہ گیا ہے۔

میری پنجاب حکومت سے گزارش ہے کہ وہ پنجاب خصوصاً لاہور میں قصہِ پارینہ اور معدوم ہوتے میلوں کی اہمیت کو اُجاگر کرنے اور انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے اور اُن میں جدت لانے کے لئے اقدامات کرے۔ اِن میلوں کے انعقاد کے ٹھیکے بڑی بڑی ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کو دیئے جائیں۔ ملک میں کپڑوں، کھیلوں کے سامان، کھانوں اور فرنیچر کے تمام مشہور برانڈز کو اِن میلوں میں اپنے اسٹالز لگانے کی اجازت دی جائے۔ انہیں خصوصی بچت پیکج دیئے جائیں، میلوں کی تاریخ اور اُن کی اہمیت کے حوالے سے بچوں کے نصاب میں خصوصی مضامین شامل کئے جائیں۔

اِن میلوں کی خصوصیات کے حوالے سے آگاہی کے لئے بین الاقوامی سطح پر سیمینار منعقد کروائے جائیں، اور پوری دنیا سے لوگوں کو اِن میلوں میں شرکت کیلئے دعوت نامے بھیجے جائیں۔ اِن میلوں کے انعقاد، انتظامات اور خصوصیات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے۔ یہ اقدامات جہاں ملک کیلئے ریوینیو پیدا کریں گے وہاں یہ پاکستان کا مثبت چہرہ بھی دنیا کو دکھانے کا باعث بنیں گے۔

اگر ہم صرف ایک مرتبہ کوئی ایک بھی میلہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان سمیت پوری دنیا میں منعقد کروانے میں کامیاب ہوگئے اُس دن دنیا ’فرنچ فیسٹول‘، ’چائنہ آئس فیسٹول‘، ’تھائی لینڈ واٹر فیسٹول‘ اور ’میکسیکو بیلون فیسٹول‘ کے ساتھ ساتھ ’مادھو لعل حسین کے میلے‘، ’چھڑیوں کے میلے‘، ’پار کے میلے‘، ’بیساکھی کے میلے‘ اور ’عرس داتا گنج بخش کے میلے‘ کو یاد رکھیں گے اور لاہور پھر سے میلوں کے شہر کے نام سے زندہ ہوجائے گا۔

میاں صاحب جہاں آپ اورنج ٹرین، میٹرو بس، دانش اسکول اور لیپ ٹاپ اسکیموں کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں وہاں میلوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور انہیں بین الاقوامی فورم پر متعارف کروانے کیلئے بھی کچھ بجٹ مختص کریں کیونکہ ملک کی ترقی، جرائم کی شرح کو کم کرنے اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے کیلئے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ میلے بھی ضروری ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@khybertimes.com.pk پر ای میل کریں۔
میاں عمران احمد

میاں عمران احمد

بلاگر نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی لندن سے گریجویشن کر رکھا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے کالمنسٹ ہیں، جبکہ ورلڈ کالمنسٹ کلب اور پاکستان فیڈریشن آف کالمنسٹ کے ممبر بھی ہیں۔