جھلسنے والی جلد کی فوری مرمت کرنے والی ’ کھال گن‘

واشنگٹن۔ انسانی جلد جھلسنے اور جلنے کے بعد نئی جلد کی افزائش میں ایک تو بہت دیر لگتی ہے اور دوسری جانب عمر بھر اس کے نشانات باقی رہ جاتےہیں۔ لیکن اب ایک انقلابی ’کھال بندوق‘ (اسکن گن) کے ذریعے صرف چند روز میں ہی مریض کی جلد دوبارہ اگنے لگتی ہیں۔اس سے قبل جسم کےدوسرے حصے سے لی گئی جلد کے بڑے بڑے ٹکڑے کاٹ کر یا پھر مہنگی پلاسٹک سرجری کی مدد سے جلنےوالی جلد کی کمی دور کی جاتی رہی ہے لیکن ایک کمپنی رینووا کیئر نے ایک خاص پستول نما مشین بنائی ہے جسے ’کھال گن‘ یعنی اسکن گن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام انسانی جلد پر خلیات کا اسپرے کرتا ہے۔ اس سے بننے والی نئی جلد کو پہچاننا تک ناممکن ہوجاتا ہے اور زخم کا کوئی نشان بمشکل باقی رہتا ہے۔

رینووا کیئر کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق یہ عمل بہت نرم ہے اور اس میں جلد حقیقی کھال کی طرح نمو پاتی ہے۔ اس کے لیے ڈاک ٹکٹ کے برابر کھال کا ایک ٹکڑا لیا جاتا ہے پھر اس میں سے اسٹیم سیل (خلیاتِ ساق) نکال کر زخم پر اس کا اسپرے کردیا جاتا ہے جبکہ اس عمل میں صرف 90 منٹ لگتے ہیں۔ایک کیس میں آزمائشی طور پر ایک 43 سالہ شخص پر اسے آزمایا گیا جس کا بایاں کندھا اور اوپری بازو گرم پانی سے جھلس گیا تھا اور بڑے بڑے آبلے پڑگئے تھے۔ اس پر ایک کروڑ 70 لاکھ خلیات کا اسپرے کیا گیا اور صرف 6 دن میں نئی کھال نے پورے زخم کو بھردیا اور ہسپتال سے چھٹی دیدی گئی۔ صرف ڈیڑھ ماہ کے اندر مریض اپنے ہاتھ اور بازو کو ہلانا شروع ہوگیا اور اس کی تکلیف دور ہوگئی۔

دوسرے کیس میں ایک 35 سالہ شخص بجلی سے جھلس گیا تھا اور اس کے لیے ڈاکٹروں نے آئی فون 5 کے رقبے پر 2 کروڑ 40 لاکھ کے قریب خلیات کی افزائش کی اور اسے جلے ہوئے زخموں پر اسپرے کیا ۔ صرف چار دن بعد ہی بازو اور سینے پر جلد اگ آئی اور گہرے ترین زخم بھی 20 دن بعد مکمل طور پر ٹھیک ہوگئے۔

عام طور پر جلد کا زخم اندر سے ٹھیک ہوتا ہوا اوپر آتا ہے جبکہ اسکن گن کے ذریعے زخم اوپر سے بھرنا شروع ہوتا ہے جو بہت تیز عمل بھی ہوتا ہے۔ اب تک اسکن گن سے 60 مریضوں کا کامیاب علاج کیا جاچکا ہے۔ اب کمپنی نے امریکہ میں باقاعدہ علاج کے لیے ایف ڈی اے اسے اجازت طلب کرلی ہے۔