36

گوگل پلے سٹور میں وائرس کا انکشاف

پشاور ۔ انٹرنیٹ آلات میں وائرس کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں‘ تاہم اگر ایسے آلات میں خطرناک وائرس موجود ہو تو یہ ہر کسی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ سائبر کرائم اور انٹرنیٹ پر ہیکنگ سے متعلق تحقیقات کرنے والی امریکہ کا ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے انکشاف کیا ہے کہ گوگل پلے سٹور میں وائرس موجود ہے۔

چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی نامی کمپنی کے مطابق گوگل پلے سٹور میں نومبر 2016ء میں وائرس چھوڑا گیا۔ کمپنی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ فالس گائیڈ نامی وائرس گوگل پلے سٹور میں موجود کم سے 40 موبائل ایپلی کیشنز میں موجود ہے‘ جس سے لاکھوں صارفین اور ڈیوائسز متاثر ہوچکے۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ فالس گائیڈ نامی وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 6 لاکھ ڈیوائسز اور 20 لاکھ صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ چیک پوائنٹ کے مطابق فالس گائیڈ نامی وائرس گیمنگ اور گائیڈ ایپلی کیشنز میں موجود ہے‘ جیسے ہی ایسی ایپلی کیشنز کو ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے تو وائرس ڈاؤن لوڈنگ سے ملتی جلتی تفصیلات طلب کرتا ہے‘

جس سے صارفین سمجھتے ہیں کہ یہ ایپلی کیشن کی ضروریات ہیں‘ تاہم درحقیقت وہ وائرس ہی ہوتا ہے۔ دوسری جانب برطانوی میڈیا نے کہا کہ پلے سٹور میں وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد گوگل نے وائرس کو ہٹادیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں