66

زمین پرجنت نظیر کمراٹ

آپ بے شک جنت نظیر وادیوں ،طلسماتی حسن اوردلفریب مناظر سے بھر پور مملکت خداداد پاکستان کے کئی بلند وبالا پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیوں کو سر کرکے ان کی بلندی اور عظمت سے ہم کلام ہوئے ہونگے،کئی چمکتے صحراؤں کا نظارہ کیا ہوگا،کئی لہلہاتے کھیتوں میں بوجھل دل اور تھکے ،ٹوٹے ،ہارے بدن کو سہلایااور آرام بخشا ہوگا،سمندر کے کنارے بیٹھ کرلہروں سے اٹھکیلیاں اور سنسناتی ہواؤں سے سرگوشیاں بھی کی ہونگی،
اس کی ریشم جیسی ریت پرچہل قدمی کرکے روح کو ہشاش بشاش بھی کیا ہوگا،کئی سرسبز و شاداب و سحر انگیز جنگلوں میں خیمہ زنی کرکے لیل و نہار کا انضمام بھی دیکھا ہوگااور روح کی تسکین کیلئے کئی وادیوں میں بھی زندگی کے اہم ایام گزارے ہونگے لیکن اگر کوہ ہندوکش کے دامن میں واقع برف کی سفید چادریں اوڑھے پہاڑوں،ابرسے گفت و شنید کرتے میدانوں،دریائے پنجکوڑہ سے سیراب ہوتے خوبصورت جنگلات پر مشتمل دیر کی وادی کمراٹ نہیں دیکھی ،تو یقین جانیں آپ نے قدرت کا اصل حُسن نہیں دیکھا۔چیڑ اور صنوبر کے دیوقامت درختوں سے گھری یہ وادی کسی فلمی سیٹ کا منظر پیش کرتی ہے جسے بنانے کیلئے سالہاسال سرتوڑ کوششیں اور محنت کی گئی ہو۔کمراٹ پاکستان کی حسین وادیوں میں سے ایک ہے جس کے مشرق میں منی سوئزرلینڈ سوات کی حسین وادی کالام،شمال اور مغرب میں پہاڑوں کے بادشاہ مارخوروں کا مسکن چترال اور جنوب میں حسین وادیوں کا امین لوئر دیر واقع ہے ۔حسین ہمسائیوں میں گھری اس وادی کا درجہ حرارت موسم گرما میں دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ 25سینٹی گریڈ جبکہ رات کے وقت 3سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے لاکھوں سیاح ہرسال موسم گرما میں اس وادی کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں سالانہ 250سے 300 ملی میٹر تک بارش ہوتی ہے اسی لئے یہ جنگل انتہائی گھنا اور زندگی سے بھرپور ہے ۔کافی عرصے سے راقم بھی تعریفوں سے مائل ہو کر اس پرفضا مقام کو دیکھنے کیلئے بے تاب تھا اور موقع ملتے ہی قریبی دوستوں کے ہمراہ کمراٹ پہنچ گیا بظاہر تو میں نے ایک جملے میں ہی بیان کردیا کہ کمراٹ پہنچ گیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔کمراٹ ایک جنت ہے اور جنت جانا آسان نہیں ،اسکا راستہ انتہائی کٹھن، دشوار اور تھکا دینے والا ہے لیکن کمراٹ پہنچ کر جو دلی سکون اور تسکین حاصل ہوتی ہے اس سے راستے کی پیچیدگیاں اور تھکاوٹ کا احساس یکایک غائب ہوجاتا ہے ۔کنکریٹ کے جنگل میں سکون کا ناکام متلاشی دل یہاں پہنچ کر آزاد پنچھی کی طرح اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے اور بے اختیار اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے ۔پشاور سے روانہ ہوئے تو درجہ حرارت 48ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے کیلئے بے تاب تھا لیکن اگلے ہی دن ہڈیوں کا گودا جم جانے کا خدشہ ذہن میں منڈلانے لگ گیا۔موٹرسائیکلوں پر چلچلاتی دھوپ میں پشاورسے ملاکنڈ اور ملاکنڈ سے دیر پہنچے تو دھوپ چہرے اور ہاتھوں کی جلد جھلسا چکی تھی لیکن جونہی دیر سے کمراٹ کا سفر شروع ہوا تو جیسے برفیلی ہوائیں بدن کے آر پار ہونے کیلئے اجازت طلب دکھائی دے رہی تھیں۔

دشوار گزار راستوں اور بعض مقامات پر پگڈنڈی نما سڑکوں سے ہوتے ہوئے کمراٹ پہنچے تو وادی میں داخل ہونے کیلئے جیسے غسل شرط تھا،باب کمراٹ میں داخل ہوئے ہی تھے کہ بارش نے گھیر لیا اور بارش بھی ایسی کہ نہ کبھی دیکھی اور نہ کبھی سنی،فرشتوں نے سوچا پشاور کی گرمی اور راستے کی دھول مٹی اتارنے کیلئے ان سیاحوں کو دھونا ضروری ہے اور واقعی ایسا دھویا کہ مرتے دم تک یہ دھلائی یاد رہیگی ۔ابھی بارش سے بچنے کیلئے لائحہ عمل طے کرکے ،محفوظ مقام ڈھونڈ کر خیمے نکالنے کی ٹھانی ہی تھی کہ لینڈ سلائیڈنگ نے محفوظ مقام بھی چھین لیاآغاز اچھا نہیں ہوا اور دوتین ساتھی دریائے پنجگوڑہ کی موجوں کی نذر ہوتے ہوتے بچے اسلئے واپسی کا فیصلہ ہوااور کمراٹ پھر کبھی دیکھنے پر سب متفق ہوگئے،ابھی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مڑے ہی تھے کہ بارش کورحم آیا اور بادلوں نے بھی پہاڑوں کی اوٹ میں پناہ لی تو سورج کی کرنوں نے ٹھٹھرتے اجسام میں حرارت بھردی اور ہم ایک بار پھر کمراٹ کی جادونگری کی جانب گامزن ہوئے ۔ اپر دیر سے کمراٹ کی راہ انتہائی پرپیچ ہے اسلئے وہاں جانے والے گاڑی کا انتخاب سوچ سمجھ کرکریں کمراٹ سے پہلے کئی چھوٹے بازار راستے میں پڑتے ہیں وہاں سے اشیاء ضروریہ خرید لیں تاکہ جنگل میں کسی چیز کی کمی کا سامنا نہ رہے۔کمراٹ سے قبل آخری آبادی تھل بازار ہے

جہاں دو صدیاں پرانی ایک مسجد بھی موجود ہے یہ مسجد کاریگروں کا ایک شاہکار ہے جس میں صرف لکڑی کا کام کیا گیا ہے یہ مسجد سیاحوں کیلئے ایک عجوبے کی حیثیت رکھتی ہے اور کمراٹ آنیوالا ہر سیاح لازمی اس مسجد کی خوبصورتی اور تاریخی حیثیت کو مدنظر رکھ کر اندر قدم ضرور رکھتا ہے ،بھلے ہی دو رکعت نفل ادا کرے نہ کرے لیکن تصویریں ضرور بناتا ہے ۔یہ مسجد چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھری ہے اور ساتھ ہی دریائے پنجکوڑہ کی چیختی چلاتی موجیں بھی رواں ہے ،چھوٹا سا بازار ہے جہاں ضرورت کی تقریباً ہر چیز بآسانی میسر آجاتی ہے ۔کھانے پینے کا سامان خریدیں اور روانہ ہوجائیں طلسمی وادی کی جانب۔ہم بھی تقریباً 14گھنٹے لگاتار سفر کے بعد ہم عیدالفطر کے دوسرے دن اس جنت میں داخل ہوئے ،خوبصور ت آبشار کے پاس خیمہ لگایا،یہ آبشار کمراٹ کے ماتھے کا جھومر ہے،دودھ کی طرح سفید پانی آبشار سے گرتا دیکھ کر زبان بے اختیار طور پر لافانی ذات کی تعریف کرنے لگتی ہے۔خیمہ لگا کر دریائے پنجکوڑہ میں مچھلی کے شکار کیلئے روانہ ہوگئے ۔وادی کے سحر میں ایسے ڈوبے کے کب رات ہوئی،پتہ ہی نہیں چلا،رات کے سواآٹھ بجے بھی آسمان کو روشن دیکھ کر حیرت ہوئی تو یاد آیا کہ پہاڑی علاقوں میں اندھیرا دیر سے ہوتا ہے مسلسل سفر کی تھکاوٹ سے چور بدن نے جب مزید ساتھ دینے سے انکار کردیا تو خیموں کا رخ کرکے لمبی تان کرسوگئے لیکن ابھی آس پاس کے خیموں سے موسیقی اور قہقہوں کو نظر انداز کرکے خوابوں کی وادی میں قدم رکھا ہی تھا کہ دریا کے اس پار سے گیدڑوں کی آوازوں نے ہلچل میں مصروف خیمہ بستی میں خاموشی طاری کردی لیکن پھر شاید مقامی لوگوں کی تسلیوں پر ایک بار پھر سیاحوں کے قہقہے پہاڑوں سے ٹکرا کر وادی میں گونجنے لگے ۔دن کے اوقات میں بھی جنگل کی سحر انگیز خاموشی میں صرف اور صرف دریا کی موجوں کا شور ہی سنائی دیتا ہے ۔آبشار سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر کالاپانی کا علاقہ ہے

،اس علاقے کو کالاپانی یہاں موجود ایک چشمے کی وجہ سے کہتے ہیں،چشمے میں پڑے پتھر قدرتی طور پر کالے رنگ کے ہیں جسکی وجہ سے چشمے سے پھوٹنے والا پانی بھی کالا دکھائی دیتا ہے ،ٹھنڈا لیکن کڑوا پانی پی کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بدن کی ایک ایک رگ تک سرایت کرتا جارہا ہو۔یہ جگہ واقعی میں قابل دید ہے،چشمے کی پشت پر موجود پہاڑ مکمل طور پر سلاجیت سے ڈھکا ہوا ہے جہاں پہنچنا انتہائی دشوار ہے جبکہ سامنے کا منظر بھی ناقابل یقین اور ناقابل فراموش ہے،سامنے ہی دریائے پنجکوڑہ کا سفید پانی ٹراؤٹ مچھلیوں سے بھرا ہوا ہے،دریا کے اس پار لمبے درختوں کا ایک انتہائی خوبصورت جنگل ہے لیکن وہاں پہنچنے کیلئے دریا پر ایک درخت کا عارضی پل بنایا گیا ہے جسکی وجہ سے زیادہ تر سیاح اس پل کو پار کرنے کی یاتوہمت نہیں رکھتے یا رسک لینے سے گھبراتے ہیں۔کالاپانی سے آگے گلیشیر آتا ہے ،گلیشیر دیکھنے کیلئے بھی کئی سیاح جان جوکھوں میں ڈال کرخطرناک راستوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ گلیشئر سے آگے آخری مقام دوجنگہ ہے جہاں دیوقامت لیکن ٹیڑھے درخت بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔دو دن گزارنے کے بعدواپسی کا ارادہ کیا تو ایک بھلے انسان نے دیر کی بجائے سوات کے راستے پشاور جانے کا مشورہ دیدیااور ساتھ یہ بھی کہا کہ راستہ صاف اور قریب پڑتا ہے،دو مقامی لوگوں سے تصدیق کی تو انہوں نے بھی کالام کے راستے ہی پشاور جانے کا مشورہ دیا۔سب دوستوں کی رضامندی سے تھل بازار سے کالام کی راہ لی اور دوپہر دو بجے روانہ ہوگئے۔شروع میں تو دلفریب مناظر نے دل کو للچائے رکھا لیکن جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے ،تکلیفیں اور پریشانیاں ماتھے پر شکن کی صورت کی صورت عیاں ہوتی رہیں۔دو گھنٹے سفر کرنے کے بعد ایسے خطرناک راستوں سے گزر ہوا کہ خدا کی پناہ۔انتہائی خطرناک راستوں نے سب کے چہروں کی ہوائیاں اڑا دیں۔دیر کا پرپیچ راستہ بھی کالام کے اس راستے کے مقابلے میں موٹروے لگنے لگا۔اندھیرا چھایاتو سردی کی شدت میں اضافے نے بھی تمام ساتھیوں کے حوصلے کا خوب امتحان لیا۔5 گھنٹے تک گرتے سنبھلتے،ہانپتے کانپتے ٹھٹھرتے دیر اور سوات کے بارڈر پر واقع باڑوگئی ٹاپ پہنچے توآگے جانے کا ارادہ ترک کرکے وہیں رات بسر کرنیکا فیصلہ کیا۔درجہ حرارت منفی میں چل رہا تھا۔شدید سردی نے ہاتھ پاؤں سن کردیئے۔صبح کی پہلی کرن پڑی تو آنکھوں نے عجیب نظارہ دیکھا۔خوبصورت پہاڑ سبز سونے کی طرح چمک رہا تھا ۔پشاور کیلئے رخت سفر باندھا تو بھی خطرناک راستوں نے آئندہ نہ آنے کیلئے توبہ کرنے پرخوب مجبور کیالیکن جب خطرناک راستے ختم ہوئے تو ایک کے بعد ایک خوبصورت گاؤں دیکھنے کو ملاان گاؤں کے حُسن نے نچلے جبڑے کو زمین تک لے جانے پر مجبور کردیا۔لکڑیوں سے بنے خوبصورت چھوٹے چھوٹے گھر،سرسبز باغات و کھیت،ان کھیتوں اور باغات سے گزرتے قدرتی چشمے اور ان کے قریب ہی چرتے مویشی جب آپ نیوزی لینڈ کی کسی ایڈوینچر مووی کی بجائے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں تویہ احساس بہت ہی مسحورکن ہوتا ہے۔باڑوگئی سے نکلے،جمارہ گاؤں پہنچے،جمارہ سے گبرال،کالام،بحرین اور مدین سے براستہ مینگورہ پشاور پہنچ گئے۔پشاور آئے ایک ہفتہ ہوچکا ہے لیکن دل اب بھی کمراٹ میں ہے۔حسین قدرتی مناظر اب بھی آنکھوں میں تروتازہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں