بادشاہوں کا کھیل

پاکستان کے شمال میں کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کے دامن میں واقع مہمان نوازوں کی سرزمین اور صوبہ خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال اور گلگت بلتستان کے بارڈر شندور میں ہرسال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے سیاحوں کی خیمہ بستی آباد ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔یہ خیمہ بستی ہرسال جولائی میں آباد ہوتی ہے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی یہاں قدیم کھیل پولو کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کیلئے ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے شندور کا رخ کرلیا ہے۔سیاحوں کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف کی بھی فائنل میچ میں شرکت متوقع ہے۔دلفریب مناظر کے امین شندور جسے دنیا کی چھت کہا جاتا ہے، میں پولو میچ کے انعقاد کو ساری دنیا میں خاص اہمیت اس لئے حاصل ہے کہ شندور کاپولو گراؤنڈ دنیا کا سب سے بلند ترین گراؤنڈ ہے۔سطح سمندر سے 12350فٹ بلندی پر واقع اس پرفضا مقام پر بعض مؤرخین کے مطابق پولو میچ کا آغاز 8دہائیاں قبل 1936ء میں شاہ شجاع الملک کے زمانے میں چاندنی کی روشنی میں گلگت بلتستان اور چترال کے راجاؤں کے درمیان ہوا، اسی لئے پولو کو کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے جبکہ اس معروف گراؤنڈ کوراجاؤں نے (ماس جونالی) یعنی چاندنی کا میدان کا نام دیا ہے۔گراؤنڈ کے قریب ہی شندور جھیل ہے جو اس جگہ کی خوبصورتی کو مزید نکھار دیتی ہے۔یہ کھیل کئی برسوں تک راجاؤں کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا رہا اور مقبولیت کے بعد لاسپور،غذر ،بروغل اور دیگر مقامی دیہات کے عمائدین کے درمیان بھی مقابلوں کا آغاز ہوگیا۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسی کھیل کی بدولت گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کے درمیان نہ صرف فاصلے سمٹنا شروع ہوئے بلکہ تجارتی تعلقات بھی استوار ہوگئے۔بعض مؤرخین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ کھیل چار صدیو ں سے کھیلا جارہا ہے جسے چنگیز خان کی اولاد نے شروع کیا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔اس کھیل کیلئے اعلیٰ نسل کے گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں جن کی دیکھ بھال اور پرورش پر ہر کھلاڑی ذاتی طور پر سالانہ 5سے 6لاکھ روپے خرچ کرتا ہے۔پولو میچ کیلئے استعمال ہونے والی چھڑی 45سے 50انچ لمبی ہوتی ہے جس کیلئے مضبوط لکڑی پڑوسی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے اور پھر ایک خاص مہارت سے پولو کی چھڑی کی شکل میں ڈھال دی جاتی ہے تاکہ کھیل کے دوران اس کے ٹوٹنے کا خدشہ نہ رہے۔اس کھیل کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والی گیند بھی لکڑی کی تیارکردہ ہوتی ہے جو کہ شاہبوت کی لکڑی کو رگڑ کر بنائی جاتی ہے۔آغاز میں اس کھیل میں ہر راجہ کی طرف سے 100کھلاڑی حصہ لیا کرتے تھے لیکن اب ہر ٹیم صرف 6کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔مؤرخین کا ماننا ہے کہ اس کھیل کو شروع کرنے کا مقصد صرف اور صرف بادشاہوں کی فوج کو چاک و چوبند اور تندرست رکھنا تھااسی لئے ہر میچ میں 200کھلاڑی حصہ لیا کرتے تھے ۔اس کھیل کی سب سے منفرد اور انوکھی بات یہ ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد کھیل ہے جس میں کوئی قوائد و ضوابط نہیں ہیں اورماضی میں کھیل کے دوران کسی بھی کھلاڑی کو سر پر چھڑی مار کر قتل کردینا کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی جبکہ کھلاڑی کو گھوڑے سے گرا کر کچل دینا بھی معمولی بات تھی اور کھیل کا ایک ہی اصول تھا کہ اس میں کوئی اصول نہیں تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کے قوانین بنائے گئے اور انہیں لاگو کیا گیااور اب کھلاڑی کو چھڑی سے مارنا فاؤل قراردیاجاتا ہے لیکن کھلاڑی کو گھوڑے سے مارنا اور گرادینا اب بھی کھیل کا حصہ ہے۔ہر سال جولائی میں منعقد ہونے والے اس پولو میچ کو دیکھنے کیلئے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے سیاح بڑی تعداد میں اس جنت کا رخ کرتے ہیں۔شندور چونکہ دنیا کا سب سے اونچا پولو گراؤنڈ ہے اسلئے یہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے لیکن اس رسک کو بالائے طاق رکھ کر غیر ملکی سیاح پرپیچ راستوں سے ہوتے ہوئے بادشاہوں کا کھیل دیکھنے یہاں ضرورآتے ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے اس کھیل کی سرپرستی کئی برسوں سے جاری ہے لیکن کھلاڑیوں کیلئے گھوڑوں کی دیکھ بھال اور پرورش کیلئے کوئی رقم مقرر نہیں کی گئی جس وجہ سے کھلاڑیوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض کھلاڑیوں کے مطابق گھوڑوں کی دیکھ بھال پر سالانہ 5سے 6لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد میچ کے اختتام پر انعامی رقم صرف 60ہزار روپے دی جاتی ہے جوکہ ناکافی ہے۔دنیا بھر میں خیبرپختونخوا کے اچھے امیج کو اجاگر کرنے کیلئے اس کھیل کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ اگر کھلاڑیوں کا بھی ہاتھ پکڑ لیا جائے تو اس قدیم کھیل کی اہمیت سے ناواقف لوگ بھی جلد اس سے واقف ہوجائیں گے۔