موبائل کے ذریعے امریکیوں کا ڈیٹا چین منتقل ہونے کا انکشاف

واشنگٹن(این این آئی)ایمازون اپنی مصنوعات اور اصولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، مگر ایک سال قبل ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے گئے ’بلیو‘ نامی سمارٹ موبائل کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کمپنی نے موبائل فون کی فروخت بند کردی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق کمپنی نے ٹوئیٹ میں بتایا کہ بلیو سمارٹ موبائل میں سیکیورٹی کمزوریوں کے انکشاف کے بعد موبائل کو ایمازون سے ہٹادیا گیاہے اوراب یہ موبائل مزید فروخت کے لیے پیش نہیں ہوگا۔تاہم کمپنی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری کرکے چین منتقل کیا گیا ان کے ڈیٹا کا کیا ہوگا؟۔ایمازون نے بلیو موبائل کو فروخت کے لیے پیش کرتے وقت اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے سافٹ ویئر کی تیاری تیسرے فریق چین نے کی اور سافٹ ویئر میں سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی امریکی کمپنی نے کی۔
سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایمازون کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کی جانے والے بلیو موبائل کے صارفین کا ڈیٹا چین منتقل ہو رہا ہے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جس کمپنی نے بلیو سمارٹ موبائل کا سافٹ ویئر تیار کیا، اسی کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا منتقل ہو رہا ہے۔کمپنی کے ایسے انکشاف کے بعد امریکی میڈیا میں بھی ایمازون کے موبائل کے بارے میں خبریں شائع ہوئیں، جس کے بعد ایمازون نے موبائل کی فروخت روک دی۔