’’پنچایت کے حکم پر شادی شدہ خاتون پر تشدد اور برہنہ کر کے گاؤں میں گھمانے والے 40 افراد گرفتار ‘‘خاتون کا جرم کیا تھا ؟وجہ ایسی کہ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

نئی دہلی ( آن لائن) ہندوستان میں ’’ پنچایت ‘‘ کے فیصلے کے بعد 20 سے 25 افراد نے ایک شادی شدہ خاتون کو گھر میں گھس کر پہلے مار مار کر ادھ موا کر دیا اور پھر بھی ان کا دل نہ بھرا تو اسے مکمل برہنہ اور مونہہ کالا کر کے گدھے پر سوار کر دیا اور گاؤں میں گھماتے رہے،خاتون کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنے سگے بھائی کو اس کی ’’محبوبہ‘‘ سے ملاقات کرانے میں مدد فراہم کی تھی ،پورا گاؤں شادی شدہ ’’برہنہ ‘‘ خاتون کا تماشا دیکھتا رہا اور اس ظلم پر کسی کی غیرت نہ جاگی ۔

بھارت کے معروف ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ نے ہندوستانی معاشرے کی حقیقی عکاسی پیش کرتے ہوئے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کے منہ پر زبردست طمانچہ رسید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جیسے جیسے ترقی یافتہ ہوتا جا رہا ہے ،اس کی اخلاقی اقدار صفر ہوتی جا رہی ہیں ،یہاں کسی کے ساتھ کوئی بھی ظلم ہوتا ہے بھارتی شہری صرف پاس کھڑے ہو کر ’’تماشا‘‘ دیکھنے میں مگن ہو جاتے ہیں یا پھر بھیڑ میں شامل ہو کر ہونے والے ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں ۔بھارتی ریاست مہاراشٹر میں بھی ایک ایسا ہی دلدوز منظر اس وقت سامنے آیا جب ایک نام نہاد پنچایت کے فیصلے کے بعد 20 سے 25 افراد نے مل کر ایک گھر میں گھس گئے اور وہاں موجود شادی شدہ خاتون کو انتہائی برے طریقے اور ڈنڈوں سوٹوں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا ،ملزموں کا جب ایک نہتی خاتون پر ہولناک تشدد سے دل نہ بھرا تو وہ اسے گھر سے باہر نکال لائے اور اسے ’’الف ننگا ‘‘ کرتے ہوئے مونہہ کالا کیا اور گدھے پر سوار کر کے گاؤں میں گھماتے رہے ،افسوس ناک اَمر یہ تھا کہ پورا گاؤں خاتون پر ہونے والے ظلم کا تماشا دیکھتا رہا اور کسی نے بھی برہنہ خاتون کو ان درندوں سے بچانے کی کوشش نہ کی جبکہ مقامی پولیس بھی اس ہولناک واقعہ سے آنکھیں اور کان بند کئے سوتی رہی ۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ اس مظلوم عورت کا قصور یہ تھا کہ اس کا بھائی ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا اور اس خاتون نے اپنے بھائی کو اس کی’’ محبوبہ ‘‘ سے ملاقات کرانے میں مدد فراہم کی تھی ۔پولیس نے خاتون پر ظلم کرنے اور ’’ تماشا ‘‘ دیکھنے والے 40 افراد کو گرفتار کر لیا ہے ،جبکہ اس ظلم کی اجازت دینے والی پنچایت کے سر پنچ اور دیگر افراد کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔