بابرہ شریف کس کی بیٹی اور فلم انڈسٹری میں کیسے آئی ؟ تہلکہ خیز انکشاف نے کھلبلی مچادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)شہر لاہور میں ایک شخص کا نام محمد شریف گھی والا (شریف گھی والا) تھا اس کا دیسی گھی کا تھوک کا کاروبار تھا۔ محمد شریف گھی والے کی تین بیٹیاں تھیں جو جب جوان ہوئیں تو انکے محلے بازار حسن پر بھی گویا شباب آگیا ، اسکی بڑی بیٹی کا نام فردوس شریف منجھلی کا نام فاخرہ شریف اور سب سے چھوٹی اور سب سے خوبصورت بچی کا
نام بابرہ شریف تھا۔ذرائع کے مطابق تینوں اعلیٰ سوسائٹی میں ایک مقام اور بڑا نام رکھتی تھیں۔ ایک بڑے ادارے کے دل پھینک اور رومان مزاج مالک نے جیٹ نامی ایک واشنگ پاؤڈر کی مشہوری کے لیے بابرہ شریف کو منتخب کیا کہ وہ اس میں ماڈلنگ کرے۔ جیٹ کو اس وقت ایک بڑے برانڈ کے مقابلے میں متعارف کروایا جا رہا تھا۔ اس اشتہار میں دھوم مچانے کے بعد بابرہ شریف کو پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک حقیقتاً شریف ہدایتکار شباب کیرانوی نے اپنی فلم میرا نام ہے محبت میں بطور ہیروئن کاسٹ کر لیا۔ اسی فلم میں ہیرو غلام محی الدین بھی نیا چہرہ تھے۔ اس فلم کے ہٹ ہونے کے بعد بابرہ شریف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور میاں شریف گھی والے کی اس ہونہار اور خوبصورت بیٹی نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنا شروع کر دیے بابرہ شریف کی چھوٹی بہن فاخرہ شرہف کو بھی شباب کیرانوی نے ایک فلم انسان اور آدمی میں رول دیا مگر فاخرہ پردہ سکرین پر کامیاب نہ ہو سکی اور ایک ہی فلم میں آنے کے بعد واپس اپنے گھر جا بیٹھی۔ ان کا گھر اس وقت لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں تھا جب نہ ڈیفنس تھا اور نہ ہی بحریہ ٹاؤن۔ اب یہ گھرانا بابرہ شریف کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ فلمی ہیروئنوں کو زوال بھی آتا ہے۔ کسی کا متبادل اس سے بھی خوبصورت چہرہ آجاتا ہے۔ کوئی سیٹ پر دیر سے آنے اور فلمساز و دیگر عملی کو تنگ کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ ہو جاتی ہے اور کسی کی جیسے ہی کوئی فلم فلاپ ہو جائے تو قسمت بھی اس سے روٹھ جاتی ہے۔ مگر بابرہ شریف سے کوئی ایک غلطی بھی نہ ہوئی۔ اس نے مشہور اینکر کامران شاہد کے والد فلمسٹار شاہد سے شادی کر لی۔ اس وقت کہا یہ جاتا تھا کہ لاہور میں دو ہی خوبصورت اور وجیہ مرد رہتے ہیں ایک فلمسٹار شاہد اور دوسرے گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر۔ اور یہ بات کسی حد تک درست بھی تھی۔ بابرہ شریف وقت کی بڑی پابند تھی کھبی دیر سے فلم کے سیٹ پر نہ آتی فلمساز سے تعاون کرتی اس کے ری ٹیک کم سے کم ہوتے۔ خوش اخلاق بھی بلا کی تھی۔ پھر اس پر مستزاد حسن اور جوانی عروج پر تھے۔ عمر بھی اتنہ نہ تھی مگر پھر بھی اسے زوال نے آ لیا۔ زوال بھی ایسا کہ گھر سے تو وہ نکل نہ سکتی تھی اخبارات اور فلمی رسالوں وغیرہ میں آنا یا انٹرویو کے لیے کسی سے ملنا بھی ختم ہو گیا۔ بابرہ شریف آج بھی اپنے ایم ایم عالم روڈ گلبرگ والے گھر میں گزرے شاندار وقتوں کی یاد میں کھوئی رہتی ہیں اور پالتو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ وقت گزارتے اور انکے ساتھ کھیلتے نہ جانے مقدر سے کیا کیا گلے شکوے کرتی رہتی ہیں