نواز شریف ٗ حسن اور حسین احتساب عدالت طلب

اسلام آباد۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فلیگ شپ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کو 19 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے احتساب عدالت کی جانب سے نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں۔ فلیگ شپ ریفرنس میاں محمد نواز شریف کے بچوں کی 16 آف شور کمپنیوں سے متعلق ہے احتساب عدالت نے سمن جاری کرتے ہوئے میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو 19 ستمبر کو طلب کیا ہے۔ملزمان کو 19 ستمبر کو ریفرنس کی نقول فراہم کی جائیں گی اور اس کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی بدھ کے روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی۔

نیب نے ریفرنس میں تکنیکی خامیوں کو دور کر کے گزشتہ روز احتساب عدالت میں جمع کروا دیا تھا جبکہ نیب نے ریفرنس میں اضافی دستاویزات بدھ کے روز عدالت میں جمع کروادیں۔ریفرنس میں نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا ہے ملزمان کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات کیں اور پتہ چلا کہ انہوں نے بے نامی آف شور کمپنیاں بنا رکھی تھیں اور آف شور کمپنیوں کے ذریعہ اثاثے بنائے گئے ملزمان کو طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے اور انہیں صفائی کا موقع دیا گیا لیکن ملزمان نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے ان کے خلاف انٹرم ریفرنس جمع کروا دیا گیا۔

جے آئی ٹی نے دیگر ملکوں کو میوچل لیگل اسٹنس کے لیے خط لکھا تھا جس کا جواب آنا باقی ہے لہٰذا اس انٹرم ریفرنس پر ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے ملزمان 16 آف شور کمپنیوں کے فنڈز کے ذرائع نہیں بتا پائے جس کے ذریعہ یہ 16 آف شور کمپنیاں بنائی گئیں اور ان کمپنیوں کے ذریعہ پھر اثاثے بنائے گئے اور جائیدادیں خریدی گئیں ریفرنس میں میاں نواز شریف، حسین نواز اور حسن نواز کو ملزم نامزد کیا گیا تھا بدھ کے روز احتساب عدالت میں کیس کی پہلی سماعت ہوئی تو اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر موجود تھے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی اور ملزمان کو طلب کرنے کے حوالے سے نوٹسز جاری کر دیئے اور انہیں19 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔