54

ممتاز فلمی اداکار بدر منیر کی نویں برسی، 11اکتوبر کو منائی جائے گی

تحریر: عبداللہ شاہ بغدادی
پشتو اور اردو فلموں کے منفرد اداکار بدر منیرہفتے کی صبح 11 اکتوبر2008 ء کو انتقال کر گئے تھے ان کی عمر 68برس تھی بدر منیر 1945ء میں ضلع سوات کے سیاحتی مقام مدین کے نواحی گاؤں شاگرام میں مولوی یاقوت خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ محنت مزدوری کی غرض سے وہ کراچی چلے گئے جہاں پر وہ بعد ازاں فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئے 1970ء میں پشتو زبان کی پہلی فلم یوسف خان شیر بانو میں بطور ہیرو جلوہ گر ہوئے اور پہلی ہی فلم میں اپنے فن کا لوہا منوا کر پشتو فلم انڈسٹری کے صدا بہار ہیرو بنے۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کے دوران 750سے زائد پشتو ، اردو اور پنجابی فلموں سمیت ایک انگریزی فلم میں بھی کام کیا ہے۔ انہیں فنی صلاحیتوں کے باعث 14اگست 2008ء کو صدارتی ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا تھا ، لیکن ان کے لو احقین کو ابھی تک صدارتی ایو ارڈ سے محروم ہے ۔ بدر منیر اپنی فلموں کے خطرناک سین خود کیا کرتے تھے۔ خیبر پختونخواکے سنگلاخ پہاڑوں سوات کے پتھریلے علاقے شاگرام مدین کے پیش امام یا قوت میاں کے گھر میں پیدا ہونے والا بدرے یعنی دنیامیں بین الاقوامی شہرت یافتہ اور پشتو فلم انڈسٹری میں ایک ایسا نام بن کر سامنے آیا جو بلا تعلیم حاصل کئے پاکستان فلم انڈسٹری پر 41سال سے راج کرتا چلا آرہا ہے بدرمنیر کا نام ہے محنت کا ،انہوں نے صرف اپنے محنت کے بل بوتے پر کام کیا بدرے سے بدرمنیر بن گیا انہوں نے اپنے شوق کی تکمیل کے لئے کراچی کے سڑکوں پر پتھر بھی کوٹے، بیرہ گیری بھی کی اور کئی مہینوں تک ٹائروں میں پنچر بھی لگائے اور پھر خوش قسمتی نے ان کا دامن کھینچا بدرمنیر نے اپنی ایکٹینگ کا شوق پورا کرنے کے لئے ہمت نہیں ہاری اور بغیر ٹکٹ کے ٹرین میں پکڑے بھی گئے فلمی کئیریر کی شروعات میں اس وقت کے موجودہ ہیروز نے ان کو آگے جانے کے لئے ان کے خلاف سازشوں کا شکار بھی ہوئے لیکن آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور انڈسٹری کے چمکتا ہوا ستارہ بن گئے۔ بدرمنیر نے اپنی 41سالہ فنی کئیریئر میں کسی بھی ہیروئن کے ساتھ کوئی بھی سکینڈل سامنے نہیں آیا بدرمنیر کو پاکستان میں سب سے زیادہ یعنی750فلموں میں کام کرنے کا اعزازبھی حاصل تھا پنجابی فلموں کے ہیرو مرحوم سلطا ن راہی نے سب سے زیادہ فلمو ں میں کام کیاتھا لیکن تحقیق کی بعد پتہ چلا کہ سلطان راہی مرحوم نے495فلموں میں کام کیا تھا جبکہ بدرمنیر 750فلموں میں اور یوں فلموں کی تعداد سلطان راہی سے زیادہ تھی اگر سلطان راہی زندہ ہوتے تو یہ تعداد بدرمنیر کی فلموں سے زیادہ ہوتی 1966ء سے لے کر 2007ء تک کوئی بھی ایساسال خالی نہیں گزراجس میں بدرمنیر کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی ہو۔ بدر منیر جن کے پاس ہر قسم کے اعزازات ہیں اب تک 350 گیت ان پر پکچرائز ہوئے ہیں جن میں خیال محمد کی آواز میں سب سے زیادہ پکچرائز ہوئیں اس کے علاوہ احمد رشدی ، ہدایت اللہ، گلریز تبسیم ،وصال خیال ،انور خیال وغیرہ شامل ہیں۔ بدر منیر نے تین فلموں کی ہدایتکاری بھی کی ہے جب کہ 15کے قریب فلموں کی پروڈیوسر بھی رہے اس کے علاوہ دو فلموں کی کہانیاں بھی لکھی بدر منیر فلم انڈسٹری کو نمی ،مسرت شاہین، شہناز شہنشاہ خان جسے خوبصورت چہرے فلم انڈسٹری کو دئیے بدرمنیر نے آج تک ہر قسم کے کردار اد اکئے بدرمنیر کو پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ اولین پشتو فلموں میں ہیرو کے اعزاز بھی حاصل ہے۔ 41سال فلم انڈسٹری پر راج کرنے والا فلموں کا لیجنڈ اسٹار بدر منیر 68 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ مرحوم نے اپنی فنی کئیریر کا آغاز اردو فلم ’’ جہاں برف گرتی ہے‘‘ سے کیا لیکن شہرت اسے ہدایت کار عزیز تبسم کی پہلی پشتو فلم ’’ یوسف خان شیر بانو‘‘ سے ملی اداکار نے اپنی کیئرئیر میں سات سو کے لگ بھگ اردو، پنجابی او رپشتو فلموں میں کام کیا۔ ان کی آخری ہدایت کار لیاقت علی خان کی پشتو فلم 2007ء میں ریلیز ہوئی تھی۔مرحوم بدرمنیر 1966ء سے لے کر 2007ء تک یعنی 41سالہ کیئرئیر میں اداکار رہے ٹوٹل 750فلمیں ریلیز ہوئی جن میں 400پشتو زبان میں 85اردو زبان میں 31پنجابی زبان میں 11سندھی اور ایک ہندکو کی فلم شامل ہیں ان فلموں میں 382رنگین فلمیں ہیں جبکہ 144بلیک اینڈ وائٹ 52فلمیں سنیما اسکوپ شامل ہیں آج تک بدر منیر نے 53ہیروینئز کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے جبکہ ولن میں نعمت سرحدی کی ساتھ 314فلموں میں جلوہ گر ہوئیں جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے جو کبھی بھی توڑا نہیں جاسکتا بدرمنیر نے 1966ء سے لے کر 2007ء تک ہر ہدایت کار فلمساز اداکاراور اداکارہ کے ساتھ کام کیا ہے جبکہ یہ ریکارڈ کسی اور اداکار کی ساتھ نہیں ہے بدرمنیر نے بطور ہیرو 435فلموں میں کام کیا ہے 67فلموں میں بطور مہمان اداکار کام کیا اس کے علاوہ 160فلموں میں ٹائٹل کا کردار اداکیا ہے ۔ بدرمنیر کی 7فلموں نے ڈائمنڈ جوبلی 61فلموں کو بلاٹینیم جو بلی 18فلموں نے گولڈن جوبلی ، 56فلموں نے سلور جوبلی کا اعزاز حاصل کیا جو آج تک ناممکن ہے بدرمنیر کی 200فلموں نے اے کلاس بزنس کیا 101فلموں نے بی کلاس اور 140فلمیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ فلموں کے عظیم اداکار بدرمنیر خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے چاہے ملک قدرتی آفات کا شکار ہو یا کوئی اور وجہ وہ خود میدا ن میں آکر امدادی کاموں کے لئے چندہ مہم چلاتے تھے۔ 90ء کی دہائی میں جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے اپنے کینسر ہسپتال کے لئے صوبہ خیبر پختونخوہ میں چندہ مہم چلائی تو اس وقت بدرمنیر نے ان کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے لوگؤں نے بڑھ چڑھ کر چندہ دیا۔ اس کے علاوہ اسی دور میں لاہو رکے ہولناک سیلاب سے متاثرین لوگوں کی امداد کے لئے بھی بدرمنیر نے پورے صوبے میں چندہ مہم چلائی تھی۔لیجنڈ اداکار بدر منیر کو ان کی فلمی زندگی میں بے شمار ایوارڈز سے نوازا گیا750فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کانام گنینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائے حکومت پاکستان نے ان کی اعلیٰ کارکردگی پر انہیں صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا جو انہیں 23مارچ 2009ء کو ملنے والا تھاتاہم وہ صدارت ایوارڈ لینے سے قبل ہی دار فانی سے کوچ کر گئے تھے، 41سالہ فلمی کئیرئیر میں بے پناہ شہرت حاصل کی سب سے زیادہ فلمیں انہوں نے یاسمین خان اور مسرت شاہین کے ساتھ بنائیں ولن نعمت سرحدی کے ساتھ ان کی جوڑی مقبول رہی بدر منیر کی اہم فلموں میں یوسف خان شیر بانو، دیدن، آدم خان درخانئی، ناوے د یوے شپے، شپونکے، ٹوپک زما قانون شامل ہیں ۔ پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے وحید مراد (مرحوم )محمد علی(مرحوم) سدھیر(مرحوم) اور سلطان راہی (مرحوم) کی طرح بدرمنیر (مرحوم) کے مخلص پرستار آل پاکستان بدرمنیر فیڈریشن کے چیف آرگنائزر محمد جاوید یوسفزئی بھی ہر سال انکی برسی مناتے ہے اس سال بھی انہوں برسی کے مناسبت سے بدرمنیر کی نایاب تصاویر کی نمائش کا اعلان کیا ہے انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال بدرمنیر کی برسی پر انکے نام پر ایوارڈ کا اجراء کیا جائیگا یہ ایوارڈ ادب و ثقافت کے علاوہ سماجی خدمات،کھیلوں میں کارکردگی دکھانے والوں کو دیا جائیگا ۔ انہیں پاکستان کا دلیپ کمار بھی کہا جاتا تھا۔ اور وہ اپنے ساتھی اداکاروں میں کافی خوش مزاج بھی تھے وہ نہ صرف ایک اداکار تھے بلکہ ایک سماجی کارکن بھی تھے۔بدر منیر ایک ہمدرد شفیق اور باکردارانسان تھے وہ ایک غیرتی پختون اور نڈر بے باک قسم کے آدمی تھے۔بدرمنیر ویلفےئر آرگنا ئز یشن کے چےئر مین محمد جاوید یوسفزئی،جمیل شاہ حاکسار،معراج بدر،بلال بدر،یار زمان اور فواد حسین سرحدی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بدرمنیر کے حوالے سے سرکاری سطح پر پروگرامز منعقد کیا جانا ضروری ہے کیونکہ انکی اداکاری سے ملک وقوم کا نام روشن ہوا ہے حکومت کو چاہئے کہ ہر سیاسی ادبی سماجی اور ثقافتی ہیروز کے یاد میں سرکاری سطح پر پروگرامات منعقد کریں اور انکے خدمات کے اعتراف میں انعامات واکرامات نوازیں تاکہ انکی حق رسید ہوجائے اور آنے والے نسلوں کی حوصلہ افزائی ہوجائے۔ان کے نام سے اکیڈمیاں بنانی چاہیے کیونکہ وہ اصل حقدار ہیں ۔اب چونکہ بدرمنیر ہمارے ہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہے لیکن روحانی طور پر وہ ہمارے ہاں موجود ہے انکی کردار اور یادیں اسے ہم سے کبھی جدا نہیں کرسکتے ۔ وہ ہمیشہ دلوں پر راج کرے گا۔ اور ان کا نام تاریخ کے امداق میں زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں