61

اگلا بڑا زلزلہ کب آئے گا؟

8 اکتوبر 2005 پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ صبح آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ایک قیامت خیز زلزلے نے ملک کے شمالی حصے کو بری طرح جھنجھوڑا اور بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ہزاروں چھوٹی رہائشی عمارتوں، اسکولوں اور دفاتر کو ملبے میں تبدیل کردیا۔ اس قدرتی آفت کو اس سے بالکل غرض نہ تھی کہ متاثر ہونے والے لوگ اپنے دفاتر میں کام کررہے ہیں یا گھروں میں سو رہے ہیں، یا وہ کس زبان، رنگ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، یا ان کی ذہنی وابستگی کس مکتبہ فکر کے ساتھ ہے۔ جو دفاتر میں کام کر رہے تھے پھر کبھی چھٹی نہ کر سکے، جو گھروں میں سورہے تھے پھر کبھی جاگ نہ سکے، جو گرے پھر کبھی کھڑے نہ ہو سکے۔ چند سیکنڈوں میں عمارتوں کی اس وسیع تباہی نے تقریباً 85000 جانیں لیں اور پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر کیے۔ ہم آج بھی ان تکلیف دہ مناظر کو یاد کرتے ہیں اور ایسا وقت دوبارہ اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھنے کی دعائیں کرتے ہیں۔

تصویر 1: پاکستان تِین ٹیکٹونک پلیٹوں کے ایک بہت ہی سست رفتار تصادم والے مقام پر واقع ہے۔ گزشتہ کئی ملین سال سے جاری اِس ٹکراؤ نے اِس خطے میں فالٹ لائنوں کے ایک طویل سلسلے کو جنم دیا ہے جو کسی بھی وقت بڑے زلزلے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن اگلا بڑا زلزلہ کب آئے گا؟

میں زلزلوں اور عمارتوں پر ان کے اثرات سے متعلق ایک تعلیمی شعبے سے وابستہ ہوں۔ میں اپنے طلبا، تعمیراتی انجینئرز اور اپنے شعبے کے محققین کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ عمارتیں زلزلوں کےدوران کیوں گرتی ہیں؟ اور زلزلوں کے خلاف ان کی مزاحمت کیسے بڑھائی جاسکتی ہے؟ مجھے اپنے پیشہ ورانہ شب و روز میں مشغول دیکھ کر میرے دوست اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگلا بڑا زلزلہ کب آئے گا؟

یہ جانتے ہوئے کہ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں، میں ہر بار کسی نہ کسی طرح انہیں اپنی مبہم وضاحتوں سے مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں۔ کبھی اپنی لا علمی کا اقرار کرتا ہوں تو کبھی ان وجوہ کی وضاحت پیش کرتا ہوں جو اس سوال کے جواب کو نہایت مشکل بناتی ہیں۔ مگر اس بات سے قطع نظر کہ کیا ہم واقعی کبھی قطعیت کے ساتھ یہ معلوم کرسکیں گے کہ اگلا بڑا زلزلہ کب آئے گا، زلزلوں کا خوف اور ان کے اثرات ہمارے اجتماعی حافظے پرہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ خوف ہمارےاردگرد بڑی تعداد میں موجود غیر معیاری رہائشی عمارتوں سے وابستہ خطرات کے ادراک اور جوابی حفاظتی اقدام کا محرک نہیں بن سکا ہے؛ اور یہی اس مضمون کے لکھنے کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

تصویر2: زمین کی اندرونی ساخت اور تہیں

ان قارئین کےلیے جو نہیں جانتے، میں سب سے پہلے ہر ممکن طور پر سادہ ترین الفاظ میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ زلزلے کیوں آتے ہیں اور ان کے پس پشت کون سے طبعی عوامل کار فرما ہوتے ہیں؟ ارضیاتی ماہرین ہمارے سیارے کو (جس کا قطر 12000 کلومیٹر ہے) اندرونی طور پر تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: کور (قلب)، مینٹل اور کرسٹ (قشر)۔ ’کور‘ زمین کا انتہائی اندرونی حصہ ہے جس کا درجہ حرارت سورج کی سطح کے درجہ حرارت کے برابر ہے۔ انتہائی گرم دھاتوں سے بنے آگ کے اس گولے کا حجم تقریباً چاند کے برابر ہے (چاند کا قطر 3000 کلومیٹر ہے)۔

ماہرین زمین کی ’کور‘ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: اندرونی کور (ٹھوس) اور بیرونی کور(مائع)۔ اس کے اوپر مینٹل کی 2800 کلومیٹر موٹی پرت ہے جو جزوی طور پر پگھلی ہوئی اور انتہائی دباؤ کی حالت میں موجود چٹانوں سے مل کر بنی ہے۔ مینٹل کے اوپر زمین کی سب سے بیرونی پرت ’کرسٹ‘ ہےجو نسبتاً ٹھنڈی اور ٹھوس چٹانوں سے بنی ایک باریک پرت ہے۔

دراصل یہ کرسٹ ہی ہے جسے ہم اپنی روزمرہ گفتگو میں ’’زمین‘‘ کہتے ہیں۔ اسی کرسٹ پر تمام براعظم، سمندر، ممالک اور شہر آباد ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ زمین کے مکمل حجم کی نسبت اس کرسٹ کی موٹائی بہت ہی کم ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اگر زمین ایک سیب جتنی بڑی ہو تو کرسٹ کی مثال اس کے باریک بیرونی چھلکے کی ہوگی۔

ارضیاتی ماہرین کے مطابق زمین کی کرسٹ کسی انڈے پر موجود ایک ٹھوس اور مکمل بیرونی خول کی مانند نہیں۔ اِس کے برعکس یہ زمین کی سطح پر کئی جگہوں سے ٹوٹی ہوئی ہے اور درحقیقت یہ مختلف موٹائی اور ساخت رکھنے والے بہت سے چَٹانی ٹکڑوں یا ’پلیٹوں‘ سے مل کر بنی ہے۔ یہ پلیٹیں اپنے نیچے موجود نسبتاً نرم اور جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹانوں سے بنی پرت (مینٹل) پر بہت آہستہ رفتار سے تیرتی رہتی ہیں۔ ان پلیٹوں کو ’ٹیکٹونک پلیٹیں‘ کہا جاتا ہے۔ زمینی سطح کا تقریباً 94 فیصد رقبہ (خشکی اور سمندر) سات بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں سے مل کر بنا ہے جبکہ ان کے علاوہ بہت سی چھوٹی پلیٹیں بھی ہیں۔ یہ پلیٹیں چند سینٹی میٹر فی سال کی رفتار سے آہستہ آہستہ حرکت کرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ 4 ارب سال سے زمین کے مرکز میں موجود پگھلی ہوئی چٹانوں کا سمندر ان پلیٹوں کی حرکت کےلیے توانائی مہیا کر رہا ہے۔

یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ گرم ہوا اُوپر کو اٹھتی ہے۔ اسی طرح پگھلی ہوئی گرم چٹانیں بھی زمین کے مرکز سے اُوپر کی طرف حرکت کرتی ہیں اور ساتھ ہی ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت کا باعث بھی بنتی ہیں۔ زمین کی سطح پر جہاں جہاں بھی دو یا دو سے زیادہ پلیٹیں ملتی ہیں، ان کی حرکت کی سمت اور رفتار میں اختلاف کی وجہ سے بہت بڑی مقدار میں توانائی ذخیرہ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ زمین کی سطح پر ان پلیٹوں کی باؤنڈری (حد) تِین مختلف اقسام کی ہوسکتی ہے: پہلی قسِم میں دوپلیٹیں ایک دوسرے سے مختلف سمت میں پھسلتی (سلائیڈ کرتی) ہیں؛ دوسری قسِم میں ایک پلیٹ دوسری سے براہ راست ٹکراؤ کی صورت حال سے دوچار ہوتی ہے؛ جبکہ تیسری قسِم میں ایک پلیٹ دوسرے سے دور ہوتے ہوئے مخالف سمت میں حرکت کرتی ہے اور زمین کے مینٹل سے پگھلی ہوئی چٹانیں ان دور ہوتی ہوئی پلیٹوں کے درمیانی خلا کو پر کردیتی ہیں۔

جب بھی کبھی دو سلائیڈ کرتی ہوئی یا ایک دوسرے سے متصادم پلیٹیں رگڑ کی قوت کے باعث حرکت نہیں کرسکتیں، ان کو مسلسل حرکت میں رکھنے والی توانائی اِس مقام پر ذخیرہ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ توانائی ذخیرہ ہونے کا یہ عمل سینکڑوں یا ہزاروں سال تک جاری رہتا ہے۔ پِھر جیسے ہی جمع شدہ توانائی کی قوت، رگڑ کی قوت سے بڑھتی ہے، ایک شدید دھماکے کے ساتھ دونوں پلیٹیں حرکت کرتی ہیں اور ان کے پھنسے ہوئے کناروں میں تمام جمع شدہ توانائی چند سیکنڈ میں خارج ہوجاتی ہے۔ یہ توانائی حرکی لہروں کی صورت میں (کسی تالاب میں پیدا ہونے والی لہروں کی طرح) زمین کی کرسٹ کو، یعنی ممالک، شہروں، سمندر وغیرہ کو حرکت میں لاتی ہیں۔ ہم توانائی کی ان ہی لہروں کو زلزلوں کی شکل میں محسوس کرتے ہیں۔

زلزلے کی شدت سے متعلق جو پہلا لفظ ہمارے ذہنوں میں آتا ہے وہ ’’ریکٹر اسکیل‘‘ ہے۔ دراصل یہ پیمانہ (جو اب ایک نئے اور بہتر پیمانے سے تبدیل ہوچکا ہے) ہمیں کسی بھی زلزلے میں خارج ہونے والی توانائی کی مقدار بتاتا ہے۔ اِس مقدار کو ایک ساکن نمبر سے، جسے ’میگنی ٹیوڈ‘ (magnitude) کہتے ہیں، ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بات غور طلب ہے کہ یہ نمبر زلزلے کی شدت پر اثر انداز ہونے والا واحد عنصر نہیں۔ ایک بہت اہم عنصر زلزے کے مرکز سے دوری بھی ہے۔ مرکز سے دور رہنے والے لوگوں کو زلزلے کی شدت اس کے قریب موجود لوگوں کی نسبت کم محسوس ہو گی۔

کسی بھی زلزلے کی شدت کو ایک بلب کی روشنی کی مثال سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ جیسے برقی بلب کا ایک ساکن وولٹیج ہوتا ہے جو تبدیل نہیں ہوتا، مگر اس کی روشنی قریب موجود لوگوں کو دور بیٹھے لوگوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح زلزلے كے مرکز سے دور واقع شہر اس کی شدت سے نسبتًا محفوظ رہتے ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ زلزلے کی شدت اِس کے میگنی ٹیوڈ نمبر کے ساتھ برابر مقدار میں نہیں بڑھتی۔ میگنی ٹیوڈ میں ایک درجہ اضافے سے زلزلے کی شدت میں دس گنا اضافہ ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میگنی ٹیوڈ 9 کا ایک زلزلہ، میگنی ٹیوڈ 8 کے زلزلے سے 10 گنا زیادہ شدید ہوگا (بشرطیکہ دونوں کو مرکز سے ایک ہی فاصلے سے محسوس کیا جائے)۔ اسی طرح میگنی ٹیوڈ 8 کا زلزلہ، میگنی ٹیوڈ 7 کے زلزلے سے 10 گنا زیادہ شدید ہوگا۔

اب کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ میگنی ٹیوڈ 9 کا ایک زلزلہ، میگنی ٹیوڈ 7 والے زلزلے کے مقابلے میں کتنے گنا زیادہ شدید ہوگا؟ (جواب: 100 گنا!)۔ آج تک ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ میگنی ٹیوڈ 9.5 کا تھا جو 22 مئی 1960 کو جنوبی چلی میں آیا تھا۔

ذیل میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں گے تو ایک اینی میشن کھل جائے گی جس میں آپ دیکھ سکیں گے کہ زمینی سطح پر دو مختلف ٹیکٹونک پلیٹیں کیسے تین طرح سے آپس میں ملتی ہیں۔ ماؤس سے ’’پلے‘‘ کے بٹن پر کِلک کیجیے اور خود مشاہدہ کیجیے۔ (بشکریہ: jig.space)

جب دو پلیٹیں ایک دوسرے کے ساتھ سلائیڈ کرتی ہیں (ٹرانسفارم پلیٹ باؤنڈری): https://jig.space/view/embed?jig=jrOz2eO2

جب دو پلیٹیں ایک دوسرے سے متصادم ہوتی ہیں (متصادم پلیٹ باؤنڈری): https://jig.space/view/embed?jig=v4Ga2VKw

جب دو پلیٹیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف سمت میں حرکت کرتی ہیں (مخالف سمت میں کھلتی ہوئی پلیٹ باؤنڈری): https://jig.space/view/embed?jig=0xKBaZGa

اگر سمندر کی تہہ میں زلزلہ آئے تو کیا ہوگا؟ ایسی صورت میں زلزلے كے مرکز كے اوپر موجود پانی بپھری ہوئی خوفناک لہروں کی شکل میں حرکت کرتا ہے، جو ساحل سے ٹکرا کر بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ ان لہروں کو ’’سونامی‘‘ کہتے ہیں۔ عموماً یہ ان زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو دو باہم متصادم پلیٹوں کی باؤنڈری میں توانائی کے یکدم اخراج کی وجہ سے آتے ہیں۔ یہ تمام عمل اِس اینی میشن میں دکھایا گیا ہے۔ سمندر کے نیچے ایک ٹیکٹونک پلیٹ خشکی پر مشتمل پلیٹ کے نیچے سرک رہی ہے۔ رگڑ کی وجہ سے سینکڑوں یا ہزاروں سال تک توانائی ذخیرہ ہوتی رہتی ہے اور پِھر اچانک (بغیر کسی پیشگی انتباہ کے) سمندر کی تہہ میں زلزلے کی صورت میں خارج ہوکر سونامی کا باعث بنتی ہے۔

زلزلے کیسے سونامی پیدا کرتے ہیں (اینی میشن): http://gph.is/2gNT6w7 (بشکریہ: TectonicsObservatory)

پاکستان تِین مختلف ٹیکٹونک پلیٹوں كے درمیان ہوتے ہوئے ایک بہت سست رفتار تصادم کے اُوپر واقع ہے۔ ملک کا مشرقی حصہ انڈین پلیٹ کے اوپر واقع ہے جب کہ مغربی حصہ یوریشین پلیٹ پر واقع ہے۔ ملک کی جنوب مغربی سرحد پر (بحیرہ عرب کے ساحل کے ساتھ ساتھ) عریبین پلیٹ شروع ہوجاتی ہے۔ تینوں پلیٹوں کے اِس تصادم کی تاریخ 30 سے 40 ملین سال پر محیط ہے۔

گزشتہ کئی ملین سال سے انڈین پلیٹ تقریباً 3 سینٹی میٹر سالانہ کی رفتار سے یوریشین پلیٹ کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سست رفتار ٹکراؤ نے ہماری زمین کو ہمالیہ جیسا خوبصورت اور جنت نظیر پہاڑی سلسلہ تحفے میں دیا ہے۔ تاہم اس تصادم نے ہمارے خطے میں بڑی تعداد میں زمینی ’فالٹ لائنز‘ (زمین کی چٹانی سطح میں کریک یا دراڑیں) بھی پیدا کیے ہیں جو کسی بھی وقت ایک درمیانے درجے کا زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم گزشتہ سو سال میں کئی بار ان فالٹ لائنوں کے پیدا کیے ہوئے زلزلوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

تصویر3: گزشتہ 100 سال میں یہ خطہ کئی بڑے اور تباہ کن زلزلوں سے متاثر ہوچکا ہے۔

2005 میں کشمیر میں آنے والا زلزلہ بھی ان ہی واقعات کا تسلسل تھا جو انڈین اور یوریشین پلیٹ باؤنڈری پر موجود فالٹ سسٹم سے پیدا ہوا تھا۔ اِس کا میگنی ٹیوڈ 8.6 تھا اور اس کا مرکز مظفرآباد شہر سے 19 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔ یہ زلزلہ اپنے مرکز کے مقام پر زمین کی سطح سے 15 کلومیٹر گہرائی میں یکدم توانائی کے اِخراج کی وجہ سے آیا۔ اِس نے ملک کے شمالی حصے کو بری طرح جھنجھوڑا اور تقریباً 3 ملین گھروں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ یہ زلزلہ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ بھی بنا جس نے کئی گاؤں اور قصبے مٹی كے نیچے دفن کردیئے۔ ہمیں آج بھی وہ تکلیف دہ مناظر یاد ہیں۔ شاید ہم انہیں کبھی نہ بھول سکیں گے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی بڑی قدرتی آفات نے ہمیشہ انسانی معاشروں میں سماجی اصلاحاتی عمل کو تیز کیا ہے۔ بڑے بڑے زلزلے، سیلاب، وبائیں اور دیگر آفات ہمیشہ سے نئے قوانین کے بننے، ان کے نفاذ، پیشگی انتباہ کے نظام، ہنگامی امداد کی تیاری اور منصوبہ بندی کے مزید بہتر طریقوں کے بننے کا باعث بنے ہیں۔ گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم ترقی یافتہ ممالک میں انسانی ترقی کے ہر اہم قدم کے پیچھے کسی نہ کسی قدرتی آفت کو بنیادی محرک کے طور پر کھڑا پائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ساتھ یہ معاملہ نہیں رہا؛ یا کم اَز کم جتنی کوششیں ہمیں کرنی چاہیے تھیں، ہم اتنی نہیں کررہے۔ یاد رکھیے، زلزلوں کی کوئی یادداشت نہیں ہوتی۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ 100 سال میں زلزلوں کی وجہ سے 25 لاکھ سے زائد افراد اپنی زندگی کھوچکے ہیں۔ اِس نقصان کا بڑا حصہ عمارتوں اور پلوں کے گرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ زلزلے بذات خود اموات کا باعث نہیں بنتے، بلکہ عمارتوں کا غیر معیاری ڈیزائن اِس کی وجہ بنتا ہے۔ چنانچہ جب زلزلوں کے سماجی نقصانات کو کم کرنے کی بات آتی ہے تو مسئلے کا سب سے بڑا حل بہتر عمارتوں کی تعمیر ہے۔

سول انجینئر ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی بھی عمارت صرف اتنی ہی مضبوط ہوسکتی ہے جتنے مضبوط اس کے مختلف حصوں كے جوڑ ہیں۔ یعنی عمارتوں کی زلزلوں كے خلاف مدافعت کو بڑھانے کےلیے سب سے زیادہ توجہ اس کے مختلف حصوں كے جوڑوں کے ڈیزائن پر دینی چاہیے۔ اِس کے بر عکس ایک غیر مناسب انجنیئرنگ ڈیزائن میں عام طور پر سب سے زیادہ توجہ انفرادی اجزاء کی مضبوطی پر دی جاتی ہے اور یوں جوڑ عمارت کی مجموعی مضبوطی کی زنجیر میں ایک کمزور کڑی بن کر رہ جاتے ہیں۔ اِس پر خراب تعمیراتی طریقوں اور ناقص مٹیریل کے استعمال کا تڑکا لگایئے اور ایک مکمل خطرے سے گھری ہوئی عمارت آپ کے رہنے کےلیے تیار ہے۔

تصویر 4: ہم زلزلے کے ماخذ سے جتنا دور ہوں گے، اس کی شدت اور عمارتوں کو ہونے والا نقصان کم ہوگا۔

ماہرین عمارتوں کے جدید کمپیوٹر ماڈلوں پر ماضی میں آئے زلزلوں کا استعمال کركے قبل از وقت یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ مستقبل میں آنے والے زلزلوں سے ان عمارتوں کو کتنا نقصان ہوگا۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ مہنگی، بھاری بھرکم اور انفرادی طور پر مضبوط اجزاء سے بنی عمارتوں کی نسبت ہلکی اور لچک دار عمارتیں زلزلوں کے خلاف زیادہ مدافعت رکھتی ہیں۔ جو عمارت زلزلے کی توانائی کو مؤثر طور پر استعمال کرکے جذب کرنے کے قابل ہوگی، وہی سب سے محفوظ ثابت ہوگی۔

تو کیا ہم انجینئرز اور ماہرین کو اِس تباہی کا قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ کیونکہ وہ پہلے سے ہی عمارتوں کے مالکان اور عوام کو اِس بات پر قائل کرنے میں مصروف رہے ہیں کہ ہم خطرے میں ہیں اور صرف تھوڑی سی توجہ اور آگہی سے اپنی حفاظت یقینی بناسکتے ہیں۔ تاہم ایسی کوششیں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتیں اور ہم اپنی کم آگہی سے صرف نظر کرتے ہوئے ہر بڑی تباہی کے بعد اپنی قسمت، حکومت یا سرکاری اداروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔

ریئل اسٹیٹ ڈیویلپرز کو اِس بات پر قائل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ عمارتوں کے معیاری اور محفوظ ڈیزائن پر اضافی رقم خرچ کرنا ان کا فرض ہے۔ البتہ زلزلوں کے خطرات کا عدم اِدراک کبھی بھی ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

مجھے یاد ہے کہ 2005 میں کشمیر کے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں مقامی رہائشیوں کو اس بات پر قائل کرنا کتنا مشکل تھا کہ انہیں کیوں اپنے گھروں کےلیے دوبارہ مضبوط پتھروں کی کمزور چنائی سے بنی دیواریں نہیں بنانی چاہئیں۔ میری باتیں ان کےلیے اس قدر حیرانی کا باعث تھیں کہ وہ یہ یقین ہی نہیں کر پارہے تھے کہ ان بھاری بھرکم عمارتوں میں رہنا کسی ٹائم بم کے اُوپر رہنے کے مترادف ہے، ایک ایسا ٹائم بم جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ وہ مناظر کبھی میری یادداشت سے مٹ نہ سکیں گے۔

2005 کی تباہی کے بعد وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس، حکومت پاکستان نے پاکستان کے بلڈنگ کوڈ پر نظرثانی کرنے اور اس میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا۔ بلڈنگ کوڈ میں زلزلے سے حفاظت کےلیے عمارتوں کے محفوظ ڈیزائن سے متعلق کئی نئی شقیں ڈالنے کا کام نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کو تفویض کیا گیا۔ نیسپاک نے ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے خطرات کا تخمینہ لگایا اور ملک کو وابستہ خطرے کے مطابق 5 حصوں (زونز) میں تقسیم کیا۔ 2007 میں یہ تحقیق بِلڈنگ کوڈ میں شامل کی گئی اور ہر زون کےلیے نقصان سے بچاؤ کےلیے ہدایات کی شقیں کوڈ کا حصہ بنادی گئیں۔ یہ 5 زون نیچے دیئے گئے نقشے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

تصویر 5: پاکستان کے بلڈنگ کوڈ کے مطابق ملک کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نارنجی (زون 3) اور سرخ رنگ (زون 4) میں موجود علاقے زلزلے کے سخت خطرے میں ہیں۔ ہلکےسبز رنگ میں دکھائے گئے علاقے درمیانی شدت کے زلزلے سے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ گہرے نیلے اور ہلکے نیلے رنگ کے علاقوں میں زلزلے کا خطرہ نسبتًا کم ہے۔

اس نقشے میں سرخ اور نارنجی رنگ میں موجود علاقے زلزلوں کے نسبتاً زیادہ خطرے میں ہیں جبکہ گہرے نیلے اور ہلکے نیلے رنگ کے علاقوں میں زلزلے کا خطرہ نسبتاً کم ہے۔ ہلکے سبز رنگ میں دکھائے گئے علاقے درمیانی شدت کے زلزلے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ سخت خطرے کے زون میں واقع ملک كے بہت سے گنجان آباد شہر (آزاد جموں و کشمیر، بالائی پنجاب اور بلوچستان) ہم سے فوری طور پر بہت سے حفاظتی اقدامات کا واضح مطالبہ کررہے ہیں۔

تاہم یہ تصویر صرف نصف کہانی بیان کرتی ہے۔ اِس پر آبادی کے بے انتہا اضافے، مروجہ تعمیراتی معیارات اور ہماری قدرتی آفت سے بچاؤ کی تیاریوں اور ریسکیو ایجنسیوں کی خستہ حال صورت حال کو بھی مد نظر رکھیں تو یہ تصویر اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ کراچی کی مثال لیجئے۔ کراچی بڑے زلزلے پیدا کرنے کے قابل فالٹ لائنوں سے نسبتاً دور واقع ہونے کی وجہ سے درمیانے درجے کے خطرے کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بہت سی گنجان آباد اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی موجودگی کی بدولت نقصان کا خطرہ درمیانے درجے سے کہیں بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ذرا تصور کیجیے کہ ایک درمیانے درجے کا زلزلہ بھی کتنا معاشی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہم اسی طرح کے ایک درمیانے خطرے کے حامل شہر اسلام آباد میں مارگلہ ٹاورز کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ اس خواب غفلت سے جاگنے کےلیے کیا ہمیں واقعی کسی بڑے جھٹکے کی ضرورت ہے؟

تصویر 6: پاکستان کے ہر زون میں زلزلے کے خطرے اور زلزلے کی متوقع شدت کا ایک مختصر بیان۔ (عمارتوں کے متوقع نقصان کا تخمینہ موجودہ تعمیراتی رجحانات اور کسی انجینئر کی مدد اور ماہرانہ رائے کے بغیر بنائی گئی ایک یا دو منزلہ رہائشی عمارتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے۔)

سوال یہ ہے کہ ہمیں مستقبل کے پاکستان میں زلزلوں کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کےلیے کیا اقدامات کرنے ہوں گے؟ ہمارے سامنے ایسے بہت سے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جو اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ حالیہ تکنیکی ترقی اور تحقیق کے نتیجے میں امریکا، جاپان اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں بہت سے نئے، زیادہ قابل اعتماد اور محفوظ تعمیراتی طریقے متعارف کرائے گئے ہیں جن کے نتیجے میں زلزلوں کے سماجی اور اقتصادی نقصان کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

دیگر بہت سے ترقیاتی اقدامات کی طرح ہم قدرتی آفات کی تیاری اور نقصانات سے بچاؤ کے شعبوں میں بھی بہت پیچھے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں کئی محاذوں پر بیک وقت لڑنے کی ضرورت ہے۔ یہاں میں پاکستان میں زلزلوں کو شکست دینے کےلیے کےطویل مدتی اقدامات کے چار اہم اجزاء کا مختصر طور پر ذکر کروں گا:

 ایک بہترین، اعلیٰ تحقیقاتی معیارات کے مطابق قومی بلڈنگ کوڈ: بلڈنگ کوڈ کسی بھی ملک میں عمارات کے ڈیزائن اور حفاظتی و تعمیراتی معیارات اور قدرتی آفات کے دوران ان کی اطمینان بخش کارکردگی کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ 2005 میں کشمیر کے زلزلے کے بعد پاکستان کے بلڈنگ کوڈ میں کئی حفاظتی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں، تاہم اس سلسلے میں مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ مثلاً ملک کے کئی بڑے اور گنجان آباد شہروں میں زلزلوں کے خطرے کا مزید درست تعین انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح ملک کے تمام علاقوں میں مٹی کی ارضیاتی خصوصیات، عمارتوں کے محفوظ ڈیزائن اور تجزیئے کے جدید طریقہ ہائے کار کے استعمال کی ہدایات وغیرہ شامل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

 قدرتی آفات کی تیاری اور خطرے سے بچاؤ، ہنگامی ردِعمل ٹاسک فورسزاور ریسکیو ایجنسیوں کے قیام، اور متعلقہ قانون کے نفاذ کےلیے سرکاری اقدامات: اِس پہلو پر شاید سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک مربوط، تکنیکی مہارت سے لیس، منظم اور شفاف حکمت عملی ہی ہمارے اہداف کو حاصل کرنے کی کنجی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں دنیا بھر کی مختلف بین الاقوامی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے مقرر کردہ اہداف اور ان کے ماہرانہ اقدامات سے بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

 نجی شعبے، سول سوسائٹی اور ریئل اسٹیٹ ڈیویلپرز کا کردار: اس سلسلے میں نجی شعبے کی ممکنہ کوششیں بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ عوامی آگہی کےلیے موزوں ماحول پیدا کرنے میں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ریئل اسٹیٹ ڈیویلپرز اور مالکان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عمارتوں کے مناسب ساختمانی (اسٹرکچرل) ڈیزائن پر صرف ہونے والی صرف 10 سے 15 فیصد اضافی لاگت ان کے رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بناسکتی ہے۔

 انجینئرز اور تعلیمی ماہرین کا کردار: ہم اکثر انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں موجود تقسیم کے بارے میں سنتے ہیں جو تکنیکی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ تعمیراتی صنعت کو کسی بھی دوسری صنعت کے مقابلے میں اس فرق کو کم کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس صنعت میں اگر پریکٹس اور تھیوری کا موازنہ کیا جائے تو آپ انہیں دو مختلف جزائر پر پائیں گے۔ اس فرق کو کم کرنے کے اقدامات کی دونوں اطراف سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تصور کیجیے کہ انڈسٹری اور اکیڈمیا کے تعاون کے اثرات کتنے گہرے ہوسکتے ہیں۔ اسکولوں کے اساتذہ، طالب علموں، سرکاری و نجی شعبے کے دفاتر اور عام لوگوں تک حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی امدادی کارروائیوں کی تربیت اور بنیادی معلومات کی ترسیل کتنی آسان ہو جائے گی۔ اسی طرح اسکولوں کے نصاب میں حفاظتی معلومات (زلزلے کے دوران کے دوران اور اس کے بعد) کے بارے میں اسباق شامل کرنا نہایت مؤثر قدم ہوگا۔ یہ اقدامات ہماری اگلی نسلوں کی حفاظت اور ترقی کے ضامن بنیں گے۔

ہم سب جس بھی حیثیت میں کام کرتے ہوں، ہمیں اپنے آپ سے یہ بڑا سوال ضرور پوچھتے رہنا چاہیے کہ آخر کب ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں میں یہ آگہی پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے کہ زلزلوں کا خطرہ نظرانداز کرنا ایک بہت غلط فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ گھر جو لوگ اپنی زندگی بھر کی مالی جدوجہد کے بعد تعمیر کر پاتے ہیں، ذرا سی غفلت سے ان کی موت کا سامان بھی بن سکتے ہیں۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ اگلا بڑا زلزلہ کب آئے گا؟ مگر مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے آئے گا، کوئی اس کو آنے سے پہلے دیکھ نہیں پائے گا۔

نوٹ:   اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@weeklysangeet.pk پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر فواد احمد نجم

ڈاکٹر فواد احمد نجم

مصنف ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (تھائی لینڈ) سے اسٹرکچرل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں اور پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ، اسلام آباد) میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ سِول انجینئرنگ، زلزلوں کے عمارتوں پر اثرات اور تعمیراتی معیارات سے متعلق کئی تحقیقی مقالوں، تدریسی مواد اور کتابوں کے مصنف ہیں اور قدرتی آفات کے خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق عوام کی مکمل آگہی اور تعلیم کا عزم رکھتے ہیں۔ ان سے fawad.najam@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں