43

سی پیک، زراعت اور ڈان لیکس ٹو

پاکستان کو اپنے قدرتی محل وقوع اور جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے عالمی سطح پر خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس اہمیت و افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم معاشی منصوبہ ’’سی پیک‘‘ تشکیل پایا جو ہزاروں کلومیٹر ریلویز، موٹرویز، لاجسٹک سائٹس اور بندرگاہوں کا ایک مربوط نظام ہے۔عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سی پیک کا بنیادی مقصد صنعتی ترقی اور توانائی کے بحران کا خاتمہ ہے لیکن درحقیقت اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ ہمارے زرعی شعبے کو ہوگا۔
زراعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے جس کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 21 فیصد ہے۔ ملک کی آدھی سے زائد آبادی زراعت سے منسلک ہے جبکہ کثیر آبادی بالواسطہ زراعت کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی کا مطلب ملک کی آدھی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے جو ملکی معیشت میں مثبت انقلاب کا باعث ہوگا۔ چین سی پیک کے ذریعے پاکستانی زراعت میں دلچسپی رکھتا ہے کیوں کہ ایک ارب تیس کروڑ آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کےلیے اسے ہرسال اربوں ڈالر دیگر ممالک سے زرعی اجناس منگوانے پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ چین کی زیادہ تر تجارت امریکہ، آسٹریلیا، روس اور برازیل سے ہوتی ہے جس پر ٹرانسپورٹ اخراجات کی اضافی لاگت آتی ہے۔ سی پیک کے تحت چین کو پاکستانی زراعت تک رسائی حاصل ہوجائے گی جس کے ذریعے وہ کم لاگت پر پاکستان کی بہترین زرعی مصنوعات سے فائدہ اٹھاسکے گا۔
پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سی پیک کے تحت چین توانائی کے شعبہ میں 33 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا جس سے کسانوں کو سستی بجلی دستیاب ہوگی۔ بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں آبپاشی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ قابل کاشت رقبہ بنجر پڑا ہے۔ سی پیک میں شامل منصوبوں کے ذریعے دستیاب پانی کو ذخیرہ کرنے اور آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کےلیے سائنسی طریقہ کار استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان میں کولڈ چین لاجسٹک اور پروسیسنگ مراکز کی کمی کے باعث کٹائی اور ترسیلات کے دوران 50 فیصد سے زائد زرعی پیداوار ضائع ہوجاتی ہے۔ چینی ادارے پاکستانی اداروں کے اشتراک سے زرعی پیداوار کو محفوظ رکھنے کےلیے گوداموں کا تین سطحی نظام ترتیب دیں گے جس میں مصنوعات کی خریداری اور انہیں محفوظ رکھنے کے گودام، عبوری گودام اور بندرگاہ پر بنائے جانے والے گودام شامل ہیں۔ مصنوعات کی ترسیل کےلیے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا اور ویئر ہاؤسز بھی تعمیر کیے جائیں گے جہاں پر فروٹ، سبزیاں اور اجناس رکھی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں اس قسم کے ویئر ہاؤس اسلام آباد اور گوادر جبکہ دوسرے مرحلے میں کراچی، لاہور اور پشاور میں تعمیر کیے جائیں گے۔
اسد آباد، اسلام آباد، لاہور اور گوادر میں سبزیوں کے پروسیسنگ پلانٹ لگائے جائیں گے جن کی سالانہ صلاحیت دو ہزار ٹن ہوگی۔ دس ہزار ٹن کے فروٹ جوس اور جام پلانٹ اور دس لاکھ ٹن صلاحیت کے گندم، دالوں اور چاول کے پروسیسنگ پلانٹ لگائے جائیں گے۔ شروع میں ایک لاکھ ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کا کاٹن پروسیسنگ پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔
اکیسویں صدی میں جہاں دنیا کے ہرشعبے میں ترقی ہوئی ہے وہیں زرعی نظام میں بھی جدت آچکی ہے جبکہ ہمارے کسان ابھی تک فرسودہ اور متروک طریقے استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ہاں فی ایکڑ پیداوار دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کئی گنا کم ہے۔ چین زرعی ٹیکنالوجی کے ثمرات پاکستانیوں کو منتقل کرے گا اور اس مقصد کےلیے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زرعی شعبے میں لایا جائے گا جہاں وہ زراعت سے منسلک اپنی ٹیکنالوجی متعارف کراوائیں گے۔ چینی کمپنیوں کو ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر دی جائے گی جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بیجوں کی نئی اقسام تیار کی جائیں گی جو پیداوار اور معیار کے لحاظ سے بہترین ہوں گی۔ اس مقصد کےلیے سترہ مختلف منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں این پی کے فرٹیلائزر پلانٹ لگائے جائیں گے جن کی پیداواری صلاحیت آٹھ لاکھ ٹن ہوگی۔
اسی طرح زرعی کمپنیوں کو فارمز کےلیے ٹریکٹرز، اجناس کو محفوظ بنانے کی مشینری، انرجی سیونگ پمپس، کھادوں اور بیج بونے اور فصل کاٹنے کے آلات خریدنے کےلیے مختلف وزارتیں اور چین کا ترقیاتی بنک بلا سود قرضے فراہم کریں گے۔ زرعی کمپنیوں کو چین کی حکومت مالی مدد دے گی اور اس مقصد کےلیے چین اور پاکستان کے زرعی حکام ایک دوسرے سے باہم رابطوں میں رہیں گے۔ چین کی حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کو رعایتی نرخوں پر قرضے دے گی جنہیں بعد ازاں شراکتی منصوبوں کی شکل بھی دی جاسکے گی۔
لائیو اسٹاک زراعت کا اہم شعبہ ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 11 فیصد ہے۔ لائیو اسٹاک کی افزائش نسل اور زیادہ پیداوار کے حصول کےلیے ہائبرڈ (مخلوط) اقسام تیار کی جائیں گی۔ سکھر میں 2 لاکھ ٹن کی سالانہ پیداوار دینے والے گوشت کے پروسیسنگ پلانٹس اور ہر سال 2 لاکھ ٹن دودھ پروسیس کرنے والے دو نمائشی پلانٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سکھر میں گوشت کی پروسیسنگ کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت دولاکھ ٹن ہو گی۔ اسی طرح دودھ کے پروسیسنگ پلانٹ بھی لگائے جائیں گے جن کی پیداواری صلاحیت دو دو لاکھ ٹن ہوگی۔
زراعت سے مربوط صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا اور زرعی پیداوار کی خرید و فروخت کےلیے مارکیٹنگ کا مضبوط ڈھانچہ بنایا جائے گا۔ یہ تمام منصوبے اور اقدامات پاکستان کی زراعت میں انقلاب برپا کردیں گے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہماری ناقص پالیسیوں کی وجہ سے زراعت پر چینی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہونے کا خدشہ موجود ہے جس کی وجہ سے مقامی کسانوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل میں انکشاف کیا گیا کہ چین سی پیک کے ذریعے پاکستان کی زراعت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ لیکن وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس آرٹیکل کی صحت سے انکار کرتے ہوئے سی پیک کے لیے سازش قرار دیا۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے بعد امریکہ کی طرف سے سی پیک کی مخالفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں اس منصوبے کو سبوتاز کرنے کے درپے ہیں۔ اس لیے ہمارے قومی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ سی پیک سے متعلق تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
نوٹ:  اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@weeklysangeet.com پر ای میل کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں