63

اسپین کا خوبصورت ساحلی شہر بارسلونا

اسپین تو پہلے بھی کئی بار جانے کا اتفاق ہوا تھا لیکن اس بار سیاحت کا پروگرام قدرے مختلف تھا۔ اسپین کا جنوبی علاقہ جس میں قرطبہ اور غرناطہ جیسی مسلم تہذیب کی نشانیاں اور قابل ذکر مقامات ہیں، انہیں دیکھنے کا شوق تھا۔ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ سویڈن سے میڈرڈ بذریعہ ہوائی جہاز پہنچے جہاں برادر اصغر شاہد محمود اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔

میڈرڈ کا ہوائی اڈہ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس اعتبار سے یہ اور پیرس کا چارلس ڈیگال ایئرپورٹ یورپ کے سب سے بڑے ہوائی اڈے مانے جاتے ہیں۔ اکثر بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کےلیے اپنے متعلقہ گیٹ پر جانا اور دیگر چیزوں کی تلاش میں کچھ دقت پیش آتی ہے لیکن میڈرڈ کا ہوائی اڈہ اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں بھول بھلیاں نہیں اور ایک ریلوے پلیٹ فارم کی طرح کی سیدھا ہے جس سے مسافروں کو دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ایئرپورٹ سے شہر جانے کےلیے پبلک ٹرانسپورٹ اور زیر زمین ریلوے کا بہترین اور قدرے سستا انتظام موجود ہے۔ ہم نے چونکہ سیاحت کا تفصیلی پروگرام بنا رکھا تھا اس لئے ہوائی اڈے سے کرائے پر کار حاصل کی اور گھر کےلیے روانہ ہوئے۔ ترقی یافتہ ممالک نے کیسی سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں کہ دوسرے ملک میں جا کر بھی بہ آسانی کرائے پر کار حاصل کرکے مزے سے سفر کیجیے۔ میڈرڈ چونکہ ہم نے پہلے کئی بار دیکھ رکھا تھا اس لئے اب کی بار میڈرڈ ہماری ترجیح نہ تھا لہذا اگلے ہی روز ہم سب بارسلونا جانے کےلیے عازم سفر ہوئے۔ اس سے پہلے 2005 میں بارسلونا دیکھ چکے تھے لیکن یہ ایسا پیارا شہر ہے کہ جب بھی جائیں، خوب لطف آتا ہے۔

میڈرڈ سے بارسلونا کا فاصلہ تقریباً ساڑھے چھ سو کلومیٹر ہے۔ میڈرڈ سے جاتے ہوئے زیادہ تر سنگلاخ پہاڑیاں اور سبزے سے خالی میدان نظر آئے۔ تین سو کلومیٹر فاصلہ طے کرکے ہم ساراگوسا میں دوپہر کے کھانے کےلیے رکے۔ یہ اپنے صوبے کا صدر مقام ہے اور سرسبز علاقہ ہے جہاں باغات بکثرت ہیں۔ اس شہر کو عربی میں سرقطہ کہتے ہیں اور یہ قریب ایک صدی قائم رہنے والی مسلم ریاست طائفہ سرقطہ کا صدر مقام تھا اور سقوط قرطبہ سے قبل ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ ساراگوسا سے ہماری گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی بارسلونا کی جانب رواں دواں تھی۔

بارسلونا اسپین کا مشہور ساحلی شہر ہے جہاں پورا سال سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کی وجہ سے مقامی لوگوں کو رہائش کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ یہ شہر وسیع ساحل سمندر، کھجوروں کے درختوں اور تاریخی عمارتوں کے باعث یہاں آنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیئے رکھتا ہے۔ بارسلونا 85 سال مسلمانوں کے زیرنگیں رہا ہے۔ اس شہر میں بہت سی تاریخی عمارتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ شہر کے وسط میں واقع Plaça de Catalunya یہاں کی تاریخی عمارتوں اور جدید شہر کے درمیان واقع ہے۔ Familia Sagrada اس شہر کی پہچان اور فن تعمیر کا ایسا شاہکار ہے جسے اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثے کی عمارتوں میں شامل کیا ہوا ہے۔

اس رومن کیتھولک گرجا گھر کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی جو اب بھی جاری ہے۔ اسے دیکھنے کےلیے سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اس لئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے جس کےلیے پندرہ یورو ادا کرنا ہوتے ہیں۔ یہ ٹکٹ پہلے سے ہی آن لائن خریدنا پڑتا ہے۔ دنیا میں اس جیسی شاندار عمارت اور کہیں نہیں، اور اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب عمارت کے اندر جائیں۔ جوں جوں اوپر جائیں، اس کی عظمت سامنے آتی جاتی ہے۔

بارسلونا شہر کے وسط میں La Rambla میں ہر وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ یہاں بہروپیے مختلف صورتیں بنائے تفریح کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں آنے کے ایک ہفتہ بعد اسی علاقہ میں بدترین دہشت گردی ہوئی جس میں 13 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے ایک سرے پر کولمبس کا مجسمہ ہے اور اس سے آگے بحیرہ روم کا ساحل ہے۔ کولمبس کا تعلق اسپین تھا اور امریکہ دریافت کرنے کی مہم پر وہ اسپین سے ہی گیا تھا۔

اس بازار کے ساتھ ہی El Raval میں ایک علاقہ ہے جسے پاکستانی ’’پریشان رمبلہ‘‘ کہتے ہیں۔ بارسلونا میں مقیم صحافی جناب عبدالغفور قریشی نے اس کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے نووارد جب بارسلونا آتے تھے تو وہ یہاں آپس میں مل بیٹھتے تھے اور اپنی پریشانیاں اور مسائل ایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتے تھے، اسی مناسبت اس کا یہ نام مشہور ہوا۔ یہاں پاکستانی دکانیں اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے میں مسجد طارق بن زیاد ہے جو 1974 میں تعمیر کی گئی۔

بارسلونا نیم خودمختار علاقے کاتلان کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت سے یاد آیا اردو کے کئی بڑے کالم نگار اور مصنف اب بھی دارالحکومت کے بجائے دارالخلافہ لکھتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ وہ یورپی ممالک کےلیے بھی یہ لفظ لکھتے جہاں کبھی خلافت تھی ہی نہیں۔ سمجھ نہیں آتا اب بھی وہ دارالخلافہ کیوں لکھتے ہیں۔

بہرحال، بات ہورہی تھی کاتلان کی۔ یہ مثلث نما خطہ اسپین کے شمال میں فرانس کی جانب واقع ہے اور اسے نیم خود مختاری حاصل ہے۔ اس کی زبان اور ثقافت اسپین سے قدرے مختلف ہے اس لئے یہ اپنی آزادی اور مختاری کی جدوجہد کررہے ہیں جبکہ چند روز پہلے ہی یہ اسپین سے علیحدگی کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ بارسلونا میں ہمیں کئی گھروں پر کاتلان کے جھنڈے لہراتے نظر آئے۔

بارسلونا کے مضافات میں ایک اونچی پہاڑی پر Tibidabo گرجا گھر کی پرشکوہ عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں سے ایک جانب شہر کا خوبصورت نظارہ ہوتا ہے تو دوسری جانب وسیع پہاڑی سلسلہ تاحد نگاہ سامنے ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی محسوس ہورہا تھا جیسے اسلام آباد، دامن کوہ اور پیر سوہاہ کی جانب سفر کیا جائے۔ Tibidabo پہاڑی کی چوٹی پر بنایا گیا ہے۔ یہ بھی عالیشان عمارت ہے۔ جو بھی بارسلونا آتا ہے وہ یہاں کا رخ ضرور کرتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ بغیر ٹکٹ کے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ سب سے اوپر جانے کےلیے ٹکٹ لینا پڑتا ہے اور وہ بھی نقد ادائیگی پر، کیونکہ بینک کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کی سہولت میسر نہیں۔ اس گرجا گھر کے اندر برقی شمعیں رکھی گئی ہیں اور بیس سے پچاس سینٹ ادا کرکے سیاح اپنی طرف سے ایک شمع روشن کرسکتے ہیں۔ معلوماتی اشتہارات جو اکثر مقامات پر مفت ملتے ہیں، یہاں دس سینٹ ادا کرکے لئے جاسکتے ہیں۔

دو بھرپور دن بارسلونا میں گزارنے کے بعد ہماری میڈرڈ واپسی ہوئی اور پھر اگلے روز سر زمین اندلس کی جانب روانہ ہوئے۔ قرطبہ اور غرناطہ کے سفر کا احوال آئندہ قسط میں جلد ہی پیش کیا جائے گا۔

نوٹ:  اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@weeklysangeet.pk پر ای میل کردیجیے۔

عارف محمود کسانہ

عارف محمود کسانہ

بلاگر، کالم نگار ہیں اور سویڈن کی فارن پریس ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ سویڈن ایک یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق سے وابستہ ہیں اور اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل کے بھی منتظم ہیں۔ فیس بُک پر ان سے Arifkisana کی آئی ڈی پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں