68

بھارت میں جھوٹی خبروں کا بڑھتا رجحان

جھوٹی خبروں، افواہوں اور مضحکہ خیز واقعات میں اگر درجہ بندی کی جائے تو ہمارا پڑوسی ملک بھارت اس میں کافی آگے ہے، جہاں آئے روز مختلف غیرمصدقہ ویب سائٹس، فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مختلف اقسام کی جھوٹی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

جھوٹی خبروں کا اس طرح پورے بھارت میں پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ موبائل فون کو بتایا جاتا ہے، جیسا کہ شہری و دیہی علاقوں سمیت پورے بھارت میں تقریباً 1ارب 20 کروڑ سے زائد لوگ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے بھارت دنیا میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔

بھارت میں پھیلنے والی چند جھوٹی خبریں
کچھ روز قبل واٹس ایپ میسج اور فیس بک کے ذریعے ایک خبر پھیلی کہ بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں بچوں کا اغوا کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے پورا ایک گروہ کام کر رہا ہے، یہ خبر اتنی پھیلی کہ اس کے نتیجے میں جھارکھنڈ کے گائوں والوں نے ایک دن میں 7 افراد کو یہ کہ کر قتل کردیا کہ ان پر اغوا کار ہونے کا شبہ تھا۔

مذہبی تقسیم
بھارت میں مذہبی تفریق و تقسیم کے حوالے سے بھی متعدد ایسی خبریں عوام تک پہنچتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

چند روز قبل میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے بھارت کے نیوز چینلرز اور ویب سائٹس پر ایک خبر گردش کرتی رہی جس میں روہنگیا مسلمانوں کو انتہاپسندی اور تشدد میں ملوث قرار دیا گیا۔

افسانہ
جھوٹی خبروں کو پھیلانے کے حوالے سے مختلف ویب سائٹس تو موجود ہی ہیں مگر پراتک سنھا نام کی ایک ویب سائٹ روزانہ کی بنیاد پر ایسی خبروں، تصویروں اور ویڈیوز کو شائع کرتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ایسا ہی کچھ دن قبل ایک ویڈیو میں ہوا جس میں برقعہ نہ پہننے کی وجہ سے شادی سے منع کرنے پر ایک مارواڑی(ہندو) لڑکی کو ایک مسلم لڑکے کو مارتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ اصل ویڈیو دو سال قبل گوٹی مالہ میں پیش آنے والے واقعے کی تھی جس میں ایک نوجوان چور کو پکڑتے وقت تشدد کیا گیا تھا۔

اس طرح کی جھوٹی خبروں اور ویڈیوز کے حوالے سے بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان کی روک تھام میں بے بس ہے کیونکہ واٹس ایپ کی انکرپشن پالیسی کے باعث ان خبروں کے پھیلاؤ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہے تاہم انفرادی طور پر کوششیں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ ایک ایسا ملک جہاں کی زیادہ تر عوام تعلیم سے محروم ہے وہاں اس طرح کی جھوٹی اور من گھڑت خبروں، تصویرو اور ویڈیوز کے وائرل ہونے سے روکنے کے لیے تعلیم کو عام کرنے اور شعور و آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں