50

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین اور بدترین مشروبات

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

تاہم جب آپ اس مرض کا شکار ہوجائیں تو کھانے کے ساتھ درست مشروبات کا انتخاب بھی ضروری ہوجاتا ہے۔

سیال کیلوریز اور غذائیت بلڈ شوگر اور ذیابیطس کے لیے اچھے یا برے ثابت ہوسکتے ہیں تو یہاں ایسے ہی مشروبات کے بارے میں بتای گیا ہے جن کا استعمال مریضوں کے لیے بہتر یا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

زیادہ پینا چاہئے : پانی

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پانی کے چند گلاس بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ طبی جریدے ڈائیبیٹس میں شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کم پانی پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں بلڈ شوگر کی شرح ان افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جو اس سادہ مشروب کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ ایک ہارمون ویسوپریسین ہے جو جسم کے اندر پانی کی مقدار کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس ہارمون کی مقدار اس وقت بڑھ جاتی ہے جب انسان پیاسا ہو جس کے نتیجے میں جگر زیادہ بلڈ شوگر بنانے لگتا ہے۔ طبی ماہرین نے خواتین کے لیے چھ سے نو گلاس جبکہ مردوں کے لیے کچھ زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

زیادہ پینا چاہئے : دودھ

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

دودھ صرف بچوں کا مشروب نہیں بلکہ یہ بالغ افراد کو بھی کیلشیئم، میگنیشم، پوٹاشیم اور وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے جس کی جسم کے متعدد بنیادی افعال کو ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق دودھ کا استعمال جسمانی وزن میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے ۔ دودھ کا روزانہ استعمال خاص طور پر چربی سے پاک دودھ کا استعمال ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے بہترین مشروب ہے جس سے بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے، جیسا طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے۔

زیادہ پینا چاہئے : چائے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کم کیلوریز، بہترین ذائقہ اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور چائے خاص طور پر سبز اور دودھ کے بغیر سیاہ چائے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے صحت مند انتخاب ہے۔ ایک چینی تحقیق کے مطابق بغیر دودھ کی سیاہ یا سبز چائے میں ایسے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو دوران خون میں موجود چینی کو جذب کرنے کی رفتار کو سست کردیتے ہیں۔ روزانہ چار کپ چائے کا استعمال ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ 16 فیصد تک کم ہوتا ہے جس کا دعویٰ ایک حالیہ جرمن تحقیق میں سامنے آیا۔ اسی طرح چائے کے استعمال سے فالج اور امراض قلب کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔

احتیاط سے استعمال کریں : کافی

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

کچھ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کافی پینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے مگر دیگر رپورتس سے عندیہ ملتا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی اس مرض کا شکار ہو ان کے لیے یہ مشروب فائدہ مند نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ کافی میں میٹھی کریم اور چربی سے بھرپور دودھ کا استعمال بلڈ شوگر اور جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق دو سے تین کپ کافی روزانہ کا استعمال تو ٹھیک ہے تاہم اگر بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مشکل کا سامنا ہو تو کافی سے دوری اختیار کرنا بہتر آپشن ہے۔

احتیاط سے استعمال کریں : ڈائٹ سافٹ ڈرنکس

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

زیرو کیلوریز مشروبات بہترین انتخاب تصور کیے جاتے ہیں مگر اس سے جسمانی وزن میں اضافہ اور بلڈ شوگر کو جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق ڈائٹ کولڈ ڈرنکس استعمال کرنے والے افراد میں موٹاپے کا خطرہ عام میٹھے مشروبات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈائٹ مشروبات کے استعمال سے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ ان سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 67 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

گریز کریں : میٹھے مشروبات

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ایک عام کولڈ ڈرنک میں اوسطاً دس چائے کے چمچ چینی ہوتی ہے جو آپ کے بلڈ شوگر کو ابلنے پر مجبور کرکے موٹاپے، ہائی بلڈپریشر، فالج اور امراض قلب کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ روزانہ ایک مشروب کا استعمال ڈیڑھ سو اضافی کیلوریز اور چالیس سے پچاس گرام بلڈ شوگر بڑھانے والے کاربوہائیڈیٹس جسم میں جانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں جسمانی وزن میں اضافہ متعدد امراض کو دعوت دینے کے مترادف ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے پیٹ کے گرد چربی جمنے کی وجہ سے سوجن بڑھتی ہے جبکہ انسولین کے نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہیں تو کولڈ ڈرنکس سمیت دیگر میٹھے مشروبات سے دوری بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

گریز کریں : فروٹ جوس

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اگر تو آپ ناشتے میں اورنج جوس کے شوقین ہیں تو جان لیں کہ یہ عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھا رہی ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے شکار ہونے کی صورت میں تو یہ زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے لہذا پھلوں کو ویسے کھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے یا کم نمکین سبزیوں کا جوس بہتر متبادل ہے۔ اگر پھر بھی جوس پینا نہیں چھوڑ سکتے تو اس کے استعمال کے بعد بلڈ شوگر کا لیول ضرور چیک کیا کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں