50

جون، ’سخت مغرور بھی تھے، بدخُو بھی‘

دھوپ زرد پڑچکی تھی اور اُس کے وجود سے شام کے سائے جھانکنے لگے تھے۔ بھائی جون نے شیو بنوانے کے بعد واش روم کا رخ کیا۔ ہاتھ منہ دھو کر کمرے میں آئے اور بال بنانے لگے۔ اُسی دوران انہوں نے ایک کتاب کی طرف اشارہ کیا جو اُن کے چھوٹے سے، مگر روشن اور ہوا دار کمرے کے ایک کونے میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ دراصل بائبل کا ایک نسخہ تھا۔ میں سمجھ گیا کہ آج پھر کچھ لکھوائیں گے۔ نسخہ اُٹھاتے ہوئے دیکھا کہ اُن کا ایک ہاتھ اُن کے پلنگ کے نیچے جارہا ہے اور اب ایک بوتل اُس کی گرفت میں ہے۔

’بیٹے، ذرا پانی تو دو۔‘ وہ اپنی زندگی کی ایک اور شام کا جام چھلکانے کے لیے تیار تھے۔ میں نے دیکھا تو کمرے میں پانی کی بوتل کہیں نہیں تھی۔ وہاں ایک گلاس ضرور رکھا ہوا تھا، لیکن وہ بھی اب بھائی جون کے ہاتھ میں تھا۔ وہ یقیناً اُس میں کچھ انڈیلنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

’بھائی جون! گلاس نہیں ہے اور…‘ میں اپنی بات مکمل نہ کرسکا۔ وہ چڑچڑا کر بولے۔

’چھوڑو یار، وہاں بالٹی میں مگا ہوگا، وہیں نَل سے پانی بَھرو اِس میں اور لے آؤ۔‘ انہوں نے باتھ روم کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے جھرجھری سی لی، لیکن کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ وہی کیا جو انہوں نے کہا تھا۔

اب وہ پینے کے ساتھ اپنے شعری مجموعے کا پیش لفظ بھی لکھوا رہے تھے۔ ’یعنی‘ کا۔ تاہم اُن کی زندگی میں نہ تو وہ تحریر تمام ہوسکی، اور نہ ہی اُن کا مجموعۂِ کلام منظرِ عام پر آیا۔ چند ماہ بعد ہی جون صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے۔

وہ ایسے ہی تھے، عجیب عادات کے مالک، بے ڈھنگے اور انوکھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ دیباچہ لکھوانے میں سنجیدہ تھے، البتہ میری طرح ہر لکھنے والا ضرور نہایت سنجیدگی اور خوشی سے اُن کے افکار تحریر کرتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جون صاحب نے صرف مجھی کو پیشِ لفظ لکھنے نہیں بٹھایا ہوگا بلکہ متعدد ملاقاتیوں سے یہ کام ضرور لیا ہوگا۔

اُن کے کہنے پر کاغذ قلم سنبھالنے والا دیکھتا کہ جون صاحب کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے ہیں اور پھر بہت سے مشکل اور نامانوس الفاظ اُس کی سماعت سے ٹکراتے جنہیں وہ تحریر کرتا جاتا۔ میرا رسم الخط خاصا پختہ ہے۔ یوں کہہ لیں کہ خوش خط ہوں۔ اِس پر وہ میری تعریف کرتے تو بہت خوشی محسوس ہوتی۔ کچھ دیر بعد وہ اِس ساری مشق سے اُکتا جاتے اور پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ وہ ادھوری تحریر (دیباچہ) سامنے رکھی ہوئی ڈائری میں دبا دی جاتی اور پھر اِدھر اُدھر ہوجاتی۔ بھائی جون اِس پر ایک نظر تک نہ ڈالتے۔ یہ شاید وقت گزاری کا اُن کا ایک طریقہ تھا۔

جون ایلیا کے قریب رہنے اور اُن کے ساتھ وقت گزارنے والوں کے پاس ایسی بے شمار یادیں محفوظ ہوں گی جو اُن کی تہہ دار اور پیچیدہ شخصیت کے ساتھ اُن کے مزاج کی رنگا رنگی کا پتا دیتی ہیں۔ روایت شکن، باغی اور منفرد لب و لہجے کے اِس شاعر نے نثر میں بھی اپنے انوکھے اور جداگانہ طرزِ نگارش کے جوہر دکھائے۔ فطرت سے بغاوت، اصولوں کے خلاف بات کرنا اُنہیں محبوب تھا۔

جون ایلیا کے ہاں محبت، محبوب اور جمالیات کا بیان عجیب و غریب حالتوں اور کیفیات سے مزین ہے۔ کہیں وہ سَر پھوڑتے اور خون تھوکتے ہیں تو کہیں نازک خیالی کی انتہا کردیتے ہیں۔ محبت اور نفرت کے اظہار میں شدت، غصّہ، ہٹ دھرمی اور ضد ہی نہیں، اُن کے اشعار میں خاطر داری، مہرو مروت اور احساس کے رنگ بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے وارداتِ قلب اور معاملاتِ دل کو غزل میں الگ ہی ڈھب سے برتا اور ایسے روایتی موضوعِ سخن کو اپنے لب و لہجے کی انفرادیت سے یوں مرصع کیا کہ اِس کی مثال نہیں ملتی۔ کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اُن کا انداز اپنانے کی کوشش کی۔ اُن کے شعری ڈھب اور اسلوب میں شعر کہے، اُن کے پڑھت کے انداز کی نقل کرتے رہے۔ وہ ایسا کیوں نہ کرتے کہ بھائی جون نے بھی تو سب کو بے حد رعایت دے رکھی تھی۔

ساری ردیفیں بھی حاضر ہیں، پھر ساری ترکیبیں بھی

اور تمھیں کیا چاہیے یارو، حاصل میری داد بھی ہے

ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو آپ کی دلچسپی کا باعث بنے گا۔

بھائی جون کا شعری مسودہ گم ہوگیا… ’یعنی‘ کا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ تین یا چار رجسٹروں کی شکل میں تھا۔ اب ’چور‘ کی تلاش شروع ہوئی۔ اُن دنوں شاید بھائی جون سے ملنے آنے والا ہر شخص ’چور‘ بنا ہوگا۔ وہ اِس طرح کہ وہ ہر آنے جانے والے سے اپنی پریشانی کا ذکر کرتے اور پھر اپنے ملاقاتیوں کے نام ایک صفحے پر لکھواتے۔ کہتے اِس فہرست سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ ہم اُن لوگوں کو الگ کرلیں گے جن سے ایسی حرکت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اُنہی دنوں میں بھی اپنے دوست کے ساتھ اُن کے گھر گیا۔ مجھے اُسی روز یہ بات معلوم ہوئی اور وہ بھی بھائی جون کی زبانی کہ اُن کا مسودہ نہیں مل رہا۔ ہمارے درمیان گفتگو جاری تھی کہ اچانک بھائی جون نے ایک صفحہ مجھے تھما دیا اور کہا کہ میرے پاس آنے والوں کے نام لکھو۔ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے خود ہی چند نام بھی لیے جو میں نے اُس صفحے پر لکھ دیے، وہ ان ناموں کو پڑھ کر کہنے لگے کہ اپنا نام بھی لکھو۔ میں نے مسکرا کر سب سے اوپر اپنا نام تحریر کردیا۔ اُنہوں نے اِس کی وضاحت ضروری سمجھی۔ کہنے لگے، یہ بس ایسے ہی ہے۔ معلوم تو ہو کون کون یہاں آتا ہے۔ ہوسکتا ہے اِس فہرست کے ذریعے چور پکڑا جائے۔ پھر میں کافی دنوں تک اُن کی طرف نہیں گیا۔ اُس دوران سننے میں آیا کہ رجسٹر مل گئے ہیں۔

بھائی جون اُس عمر میں بھی عشق فرما رہے تھے اور شادی کرنے کے لیے تیار تھے۔ ہماری کوئی ملاقات ایسی نہ تھی جو تذکرۂ حُسن سے خالی گئی ہو۔ شاعری اور زبان و بیان سے متعلق کچھ پوچھا تو اُنہوں نے بتا دیا، ورنہ زیادہ تر گفتگو اپنی ذات اور بعض ایسے لوگوں تک محدود تھی جن کا تذکرہ اُنہیں محبوب تھا۔ میں کبھی یہ نہیں سمجھ سکا کہ بھائی جون کی گفتگو میں کتنا سچ ہوتا اور وہ کب جھوٹ بولتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ آپ سے کتنے مخلص ہیں۔ انہوں نے کہا تھا۔

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی

لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں

شاعری، تاریخ اور مذہب پر کوئی بحث چھڑتی تو ایسی باتیں اور قصّے سناتے کہ نوجوان اور کچّے ذہن فوراً بدک جاتے۔ یہ شعر دیکھیے:

دفترِ حکمت کے شک پَرور مباحث چھیڑ کر

شہرِ دانش کے نئے ذہنوں کو بہکایا کریں

وہ اپنے پاس آنے والوں سے خوش بھی ہوتے کہ بہت سی باتیں کرنے کا موقع مل جاتا تھا، لیکن کوئی بھی شاید اُن کا رفیق اور محرمِ راز نہیں تھا۔ سب اُن کے لیے ملاقاتی تھے بس۔ وہ اپنے اُنہی ملنے والوں سے بیزار اور خفا بھی رہے۔ کسی سے شکایت تھی کہ اُن کی بوتل خالی کردیتا ہے، کوئی شیروانی لے کر چل دیا ہے۔ کسی نے اُن کی کتاب چُرا لی ہے۔

شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں

میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے

شعر و سخن کی دنیا کا کوئی نووارد اپنا کلام اُن کے سامنے رکھتا تو اصلاح کے ساتھ اُس نوجوان شاعر کو ایک تخلص سے بھی نواز دیتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد کسی اور نوجوان شاعر کو یہی تخلص اپنانے کا مشورہ دے رہے ہوتے۔ میں نے آخری عمر میں اُنہیں ایک ضدی اور شرارتی بچے جیسا پایا۔ کسی بات کے لیے مچل جاتے تو مشکل ہی سے سنبھلتے۔ ہم تین دوست ایک روز اُن سے ملے تو موڈ بہت اچھا تھا۔ اُس روز نجانے کس ترنگ میں تھے۔ کہنے لگے آج اپنی ایک غزل ترنم سے پڑھوں گا اور ہم نے اُنہیں سنا۔

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے، کتنے اتراتے ہوں گے

جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

بھائی جون بے پروا تھے، خود سے بھی اور زمانے کی بھی اُن کو ذرا فکر نہ تھی اور وہ کسی کی پروا کرتے بھی کیوں، اُن کا یہ شعر آپ کو بھی یاد ہوگا۔

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری

تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

انا پرست تو وہ تھے، لیکن غرور اُن پر جچتا بھی تھا کہ اُنہیں ذات سے کائنات تک کے موضوعات پر نظم و نثر میں اظہار پر یکساں قدرت تھی۔ تاریخ و فلسفہ، لسانیات اور ادب کا یہ متبحر عالم اپنے فن اور کمال میں یگانہ و یادگار ٹھہرا۔ اُن کا یہ قطعہ بھی بہت مشہور ہوا۔

جو رعنائی نگاہوں کے لیے فردوس جلوہ ہے

لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی

یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ

یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں