41

نہ کبھی این آر او کیا اور نہ ہی کریں گے، نواز شریف

 اسلام آباد: 

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو اصولوں پر کھڑے رہتے ہیں کبھی ناکام نہیں ہوتے جب کہ نہ کبھی این آر او کیا اور نہ ہی کریں گے۔ 

اسلام آباد میں لیگی ایم این ایز کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو اصولوں پر کھڑے رہتے ہیں کبھی ناکام نہیں ہوتے، تکلیف ہوتی ہے جب پیپلز پارٹی جیسی جماعت آمروں کے قوانین کو سپورٹ کرے، پیپلز پارٹی سے ہونے والے میثاق جمہوریت پر اب بھی قائم ہوں جب کہ کبھی این آر او نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف سے زیادہ توقع نہیں ہے، ان کی سیاست جمہوریت کے لیے نہیں ہے جب کہ میں جو بھی جدوجہد کر رہا ہوں اپنی ذات کے لیے نہیں پاکستان کے لیے کر رہا ہوں، اپنی ذات پر ملک اور قوم کو ترجیح دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا، تحریک انصاف، جھوٹ، بہتان اور الزام تراشی کی سیاست کرتی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جن ججز نے پی سی او کا حلف اٹھایا ہو وہ کیسے انصاف دے سکتے ہیں جب کہ عدالتوں سے انصاف کی امید نہیں ہے،وقت بدل گیا اور اب کوئی آمر کے اقدامات کو تحفظ نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری نااہلی ختم کرنے والا بل ملک کا مستقبل روشن بنانے والا بل ہے جب کہ  آئین، قانون اور جمہوریت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

اس سے قبل احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے معیشت پر ضرب پڑی اور ہماری حکومت کو چین کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا گیا، گاڈ فادر اور اطالوی مافیا کے الفاظ عدالتوں کو زیب نہیں دیتے، ججوں نے پاناما کے بجائے اقامہ پر سزا دی، ہمارے لیے عدالت کا پیمانہ کچھ اور ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پر افسوس ہے اس نے آمروں کے قانون کو سپورٹ کیا، مجھے پی ٹی آئی سے گلہ نہیں کیونکہ وہ سیاسی جماعت نہیں اور جمہوریت کےقریب سے بھی نہیں گزری، میں اپنی جماعت اور اتحادیوں کو مبارکباد دیتا ہوں، آپ نے کل دیکھ لیا پارلیمنٹ نے اہم فیصلہ کیا کہ وہ آمروں کے کالے قوانین کو تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا دہرا معیار سامنے آرہا ہے، کھیل کے اصول مساوی ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی رہنماؤں عمران خان، جہانگیر ترین اور علیم خان کے خلاف بھی کرپشن کے مقدمات ہیں، ہمارے خلاف تو فیصلے جلدی آ جاتے ہیں، ان کے فیصلے کب آئیں گے، خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سرکاری خرچ پر جلوس کی قیادت کرنے آتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں اللہ کے فضل کرم سے خوشحالی و بجلی آئی اور بے روزگاری ختم ہوئی، جبکہ ملک میں جی ڈی پی ریٹ 3 سے بڑھ کر 5 فیصد ہوگیا، 2014 سے دھرنے جاری ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہے، حکومت کو چین سے کام نہیں کرنے دیا گیا لیکن دھرنوں کے باوجود ہم نے ڈلیور کیا اور بجلی فراہم کی۔

اس موقع پر نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے پوچھا کہ آج کی کیا تازہ خبر ہے، جس پر  صحافیوں نے جواب دیا کہ آپ حاضری سے استثنیٰ ملنے کے باوجود آج عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں