40

پروسٹیٹ کینسر کی درستگی سے شناخت کرنے والا سادہ ٹیسٹ

لندن: سائنسدانوں نے پیشاب کا ایک انتہائی سادہ ٹیسٹ وضع کیا ہے جس کے ذریعے جان لیوا پروسٹیٹ کینسر کی 98 فیصد درستگی سے شناخت کی جاسکتی ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان کے مردوں میں بھی پروسٹیٹ کینسر پروان چڑھ رہا ہے اور برطانیہ میں ہر سال 50 ہزار نئے کیس رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ ہالینڈ میں ریڈباؤنڈ یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے ایک ٹیسٹ وضع کیا ہے جسے ’سلیکٹ ایم ڈی ایکس‘ کا نام دیا گیا ہے، یہ ٹیسٹ روایتی خون اور بایوپسی ٹیسٹ سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے کسی تکلیف دہ بایوپسی کی بجائے پیشاب میں دو مارکر یا کیمیکلز کو دیکھا جاتا ہے اور اگر ان کی موجودگی نارمل کے مقابلے میں کم ازکم 8 گنا زائد ہوتو یہ پروسٹیٹ کینسر کی علامت ہوسکتی ہے۔ پیشاب کا یہ سادہ سا ٹیسٹ کم مقدار کے ان کیمیکل کی بھی شناخت کرسکتا ہے جو کسی طرح خوفناک پروسٹیٹ کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔
اس ٹیسٹ کی قیمت پاکستانی 30 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے اور اسے برطانیہ کے پرائیویٹ اسپتالوں میں انجام دیا جارہا ہے، پیشاب کے اس ٹیسٹ میں دو عدد بایومارکرز کو کامیابی سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔
ہرسال برطانیہ میں 10 ہزار افراد پروسٹیٹ کینسر سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پروسٹیٹ کینسر کو ابتدا میں شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بار بار پیشاب آنا اور اسے روکنا مشکل ہوجانا اس کی اولین نشانی ہے اوراس کا مطلب ہے کہ رسولی اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ وہ پیشاب کی نالی پر زور ڈال رہی ہے، اس موقع پر مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ بایوپسی کے ذریعے پورے پروسٹیٹ گلینڈ کا ایک فیصد حصہ کاٹ کر اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے کینسر اوجھل رہنے کا 30 فیصد تک امکان ہوتا ہے اور اس تکلیف دہ عمل میں انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسے پی ایس اے ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں