45

حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں نیب کی اپیل مسترد

اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل کو زائد المعیاد ہونے پر خارج کردی ، جمعہ کے روز کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی، حدیبیہ پیپرملز کیس کھولنے سے متعلق اپیل پر سماعت شروع ہوئی تو نیب کے وکیل نے نیب قانون کا سیکشن 26عدالت کو پڑھ کر سنایا جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ہم حدیبیہ ریفرنس نہیں اپیل سن رہے ہیں،آپ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے میں تاخیر کی وجوہات پر عدالت کو مطمئن کریں، نیب پراسکیوٹر عمران الحق کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں خلا ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفرنس کھولنے کی اجازت دی جائے۔

اسحاق ڈار نے معافی نامہ دیا تھا اس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ جس بیان پرآپ کیس چلارہے ہیں وہ دستاویز آپ نے لگائی ہی نہیں، جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ اگراسحاق ڈار کے بیان کونکال دیاجائے توان کی حیثیت ملزم کی ہوگی، اسحاق ڈارکوتوآپ نے فریق ہی نہیں بنایا، ہم اپیل نہیں سن رہے ابھی تاخیر پرکیس ہے، تاخیرکی رکاوٹ دورکریں پھرکیس بھی سنیں گے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ ملزمان پر چارج کب فریم کیا گیا اس پر نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم کے نہ ہونے کے باعث چارج فریم نہیں کیاجاسکا، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ حیرانی ہے سالوں کیس چلااور چارج فریم نہیں کیاگیا جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کیس کی کاپی پر کوئی حکم امتناعی نہیں تھا، کیا آپ نے ریفرنس بحالی کے لیے کچھ کیا، احتساب عدالت کی آخری سماعت کا حکم نامہ دکھائیں،عمران الحق نے کہا کہ آخری سماعت کا حکم نامہ پاس نہیں ہے، جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آپ کی نیت کا پتہ تو احتساب عدالت کی کارروائی سے چلے گا، عمران الحق نے کہا کہ حکم امتناعی کے باعث احتساب عدالت کی کارروائی نہیں چلی۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ یہ سب کچھ بہت دلچسپ ہے، ریفرنس تب فائل ہوا جب جنرل مشرف کی حکومت تھی، چیئرمین نیب جنرل مشرف نے لگایا،چیئرمین کے دستخط کا حکم ملا تو دو سال بعد درخواست دی، نیب والے درخواست دائر کرکے بھول گئے، حکم امتناعی کی درخواست کے بھی ایک سال بعد نیب نے احتساب عدالت سے رابطہ کیا ،جوریکارڈ نہیں ہے کہہ دیں نہیں ہے، ہمیں معلوم ہے آپ اس سب کے ذمہ دار نہیں ہیں، نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کافیصلہ غلط یاصحیح تھالیکن اپیل دائرنہیں کی گئی اس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آپ کوکہناچاہیے ہائی کورٹ کافیصلہ غلط تھا، کیاآپ کہہ رہے ہیں مشرف کی جانب سے لگائے گئے چئیرمین نیب نے ارادتاً کیس خراب کیا، کیا سوال اٹھے گاریفرنس بناکرچھوڑ دیں گے ،کیا ریفرنس تب استعمال کریں گے جب ضرورت پڑے گی؟ نیب کے کام میں مداخلت کرنے والے کے خلاف بھی کاروائی ہوسکتی ہے، نیب اتنے سال سے کیاکررہاہے، جنرل مشرف کے دورمیں نوازشریف کوسزابھی ہوئی اور پھرسزابڑھانے کے لیے درخواستیں بھی دائرہوئیں۔

ایسے مقدمات میں سیاسی پہلوبھی ہوتے ہیں اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جے آئی ٹی تحقیقات میں نئے شواہد بھی سامنے آئے ہیں شواہد کی بنیادپر نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں سپریم کورٹ میں اپیل دائرکرنے کافیصلہ کیا اس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ پانامہ آبزرویشن کی بجائے نیب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب تک لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ کالعدم نہ ہوتحقیقات نہیں ہوسکتی، نوازشریف کیس میں سزاہوئی تھی، اس کیس میں 8سال 136دن تاخیرتھی ، جنرل مشرف کے دورمیں نوازشریف کوسزابھی ہوئی دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے مزید ریمارکس دیئے کہ حدیبیہ کیس کے حوالے سے کچھ میڈیا چینلز نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے پیمرا سو رہا ہے ، ہم نے کیس رپورٹ کرنے کا حق دیا تھا ، قانون کی پروہ کسی کونہیں ہے ، کسی وکیل پرالزام لگے توبرا لگتا ہے ، سچ ہمیشہ متنازع ہوتا ،ایک وقت آنے والا ہے فیصلے سڑکوں پرہوں گے بعد ازاں عدالت نے نیب کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی اپیل خارج کردی اور نیب کی درخواست کو زائد المیعاد ہونے پر ناقابل سماعت قرار دیدی جبکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں