165

پشاور میں گینڈے کا شکار

نومبر 1525ء کا وہ تاریخی مہینہ جب آج سے 492 سال قبل مغل سلطنت کے بانی،بلخ اور کابل کے حاکم عظیم فاتح شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے گینڈے کا شکار کرنے کیلئے باغوں کے مسکن پشاور میں قدم رکھا۔ظہیر الدین بابر پشاور دیکھنے کا حددرجہ اشتیاق رکھتا تھا۔اس اشتیاق نے اسلئے اس کے من میں جنم لیاکیونکہ قدیم سنسکرت کی ایک نظم میں پشاور کو (پشاپورا) یعنی پھولوں کا شہر کہہ کر پکارا گیا جو بعد میں (پورشپورہ) یعنی انسانوں کا شہر میں تبدیل ہوگیا۔اچھنبے کی بات ہے کہ یہ انتہائی کم لوگ جانتے ہونگے کہ پھولوں کے شہر کے بیچوں بیچ نایاب نسل کے گینڈے بڑی تعداد میں پل رہے تھے جوکہ آج کل پاکستان کے کسی شہر میں نہیں پائے جاتے۔انہی گینڈوں کی تعریف نے اس عظیم شہنشاہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ظہیر الدین بابر چونکہ شکار کا بھی شوقین تھا اور پھولوں کے شہر کی معطر فضائیں بھی اسکی راہ تک رہی تھیں سو اس نے پشاور کیلئے رخت سفر باندھا اور یوں درجنوں ہاتھیوں اور گھوڑوں پر سوار یہ قافلہ عظیم فاتح کی قیادت میں جمعہ17نومبر 1525ء کو پشاپورا میں داخل ہوا۔ظہیر الدین بابرجو ایک بہترین آپ بیتی نگار بھی تھا ،نے اپنی خودنوشت ’’بابرنامہ‘‘ میں وقائع کیا ہے کہ اس نے دریائے کابل کے اطراف اور ورسک کے مقام پر تین دیوقامت گینڈوں کا شکار کیا لیکن پھر ہاتھیوں کے بدک جانے کی وجہ سے شکار طویل نہ ہوسکا اور قافلہ واپس بلخ روانہ ہوگیا۔دریائے کابل اور ورسک آج بھی موجود ہیں لیکن وہاں نہ اب پھولوں کے باغ باقی ہیں اور نہ ہی قدرتی جنگلات ۔وہ مقامات جن کے دامن میں کبھی باغات اور اطراف میں گھنے جنگل ہوا کرتے تھے میں آج سانس لینا بھی دشوار ہوچکا ہے۔پشاور آج سے چند سال قبل پھولوں، درختوں اور باغوں کاشہر تھا یہاں کی ہوا اور موسم مثالی تھا یہ باغات کا مسکن تھا اور یہاں کے چمن مختلف اقسام کے پھولوں کیلئے جانے جاتے تھے یہ شہر ہمیشہ سے پرانی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے جن کے آثار مختلف زمینی حقائق کی شکل میں آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں ۔پشاور وہ شہر ہے جس کے حسن کو ثمر قند و بخارا سے تشبیہہ دی جاتی تھی لوگ اس کے باغوں کا قصہ اور کہانیوں میں ذکر کرتے تھے لیکن ان باغات کی اکثریت اب پشاور کی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے ۔ظہیر الدین بابر کی شکارگاہ پشاورسے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ جنگل کتنے گھنے اور اس کے باغ کتنے آباد تھے مگر آج پشاور کے ماتھے کا جھومر وہ تاریخی باغات باقی نہیں۔موجودہ نسلوں کو ان باغوں کے حسن و جمال اور بہارسے واقفیت ہی نہیں بلکہ بچ جانے والے تین باغوں شاہی باغ، وزیر باغ ، خالد بن ولید باغ و دیگر کی تاریخ سے بھی اکثر یت ناواقف ہیں ۔شہر پشاور کے وہ قدیم ترین باغات جن کے نقوش مٹ چکے ہیں میں نذر باغ( قلعہ بالاحصار )، سید خان باغ ( ڈبگری گارڈن) پنج تیرتھ باغ، وائرلیس گراؤنڈ باغ ،مقبرہ پری چہرہ باغ، سیٹھی باغ ( چغل پورہ) ، باغ سردار خان ( گورگٹھڑی) ، باغ بردہ قص ( قریب سائنس سپرئیر کالج) ، تیلیاں دا باغ ( ہزار خوانی )، چھانڑی باغ ،ملکاں دا باغ ( یکہ توت ) ، ماما رانی کا باغ (نزد آغہ میر جانی ) ، کرپال سنگھ گارڈن ( رامداس گیٹ )، رلے دا باغ ( موجودہ عمارات ریڈیو پاکستان )، بیر باغ ( ہزار خوانی روڈ)وغیرہ شامل ہیں۔لیکن بڑھتی ہوئی آبادی ،بے ہنگم ٹریفک ،کارخانوں کے دھویں اور درختوں کی کٹائی سے آج فضاء میں بڑی مقدار میں ہائیڈروکلورک ایسڈ،فلورین کمپاؤنڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہوچکا ہے جسکی وجہ سے اس شہر جس کی فضاء کبھی پھولوں کی خوشبو سے معطر ہوتی تھی آج سموگ سے آلودہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں