165

فوٹوگرافرکی بلیک اینڈ وائٹ زندگی

دو روزقبل ہمارے ايک فوٹو جرنلسٹ ساتھي شبيراحمد کےانتقال کي اطلاع ملي جسکي جوان مرگي کا سن کردل کودھچکا لگا ليکن اس سے بھي زيادہ دکھ اس وقت پہنچا جب مجھے مرحوم کے گھراورمعاشي تنگدستي کا علم ہوا تو يقين جانئے دل خون کے آنسورويا ، اس خبر نے مجھے جھنجھوڑ کرسوچنے پر مجبورکرديا کہ لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے والے خودکس قدرمجبوراوررنجورہوتے ہيں ، صحافيوں کے بارے ميں لوگوں کے اکثراوقات منفي تاثرات ہوتے ہيں اوروہ حقيقت ميں کيا نکل آتے ہيں !! ، کوئي ہميں رياست کا چھوتھا ستون پکارتا ہے تو کوئي طاقتوراور اثررسوخ والا تصورکرتا ہے ليکن حقيقت اتني تلخ کہ الفاظ میں بیاں نہ ہو پائے ۔۔۔
شبيراحمد گزشتہ ايک دہائي سے اس شبعے سے وابستہ تھا ايک بہترين پروفيشنل فوٹوگرافرہونے کے ساتھ ملنسار اورمحنتي شخص تھا جو کئ اچھے اداروں کے ساتھ اپنے پيشہ وارانہ امور انجام دے چکا تھا مگرستم ظريفي يہ کہ مرحوم نے گھريلو اورپروفيشنل زندگي ميں نہايت کٹھن مراحل طے کئے حالات کي سختي اورتنخواہوں کي بندش جيسے مشکلات شبيراحمد کے آڑے آتی رہیں ، ستم بالائے ستم يہ کہ مرنے سے کچھ ماہ قبل تو اسے ادارے نے نوکري سے بھي نکال ديا تھا ۔۔۔ مرحوم کے ايک فوٹوگرافر دوست نے بتايا کہ بيماري کے باوجود وہ اپنے خاندان کے لئے روزي روٹي کمانے کي تگ ودو ميں لگا ہوتا تھا ،رنگين فوٹوبنانے والے کي خود کي زندگي بے رنگ اورپھيکي پڑگئ تھي ، صحت کے ساتھ ساتھ حالات بھي اس نہج تک پہنچ گئے تھے کہ ادويات کے لئے بھي پيسے نادارد ليکن امدادتودورکسي نے پوچھنے تک گوارانہيں سمجھا ۔۔۔۔ اوربلآخر گردش حالات ، مرض اوراپنوں کي بے رخي نے شبيرکي جان لے لي ۔۔۔۔
يہ بپتا صرف شبيرکي نہيں بلکہ اس جيسے کئ صحافيوں کي ہے جن کي خبروں اور تصاوير پراداروں کے مالکان اپني دکانيں تو چمکاليتے ہيں مگر بدلے ميں ايسي زندگي دی جاتي ہے کہ جيب ميں کھانے اورعلاج تک کے لئے پيسے نہيں ہوتے ۔۔۔ صد افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے پريس کلب اوريونين کے عہديداروں کو اس بارے ميں سنجيدگي سے کچھ کرنا پڑيگا ورنہ شبيراحمد کي طرح کئ اورساتھي ايڑھياں رگڑرگڑ کرمرجايئں گے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں