82

پشاور ٹیلی ویژن سنٹر جمود کا شکار‘ پروگرام نہ ہونے کے برابر

پشاور ٹیلی ویژن گزشتہ ایک دہائی سے جمود کا شکار ہے برائے نام ڈرامے پیش کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے فنکار کام نہ ملنے پر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہی وجہ ہے فنکاروں کی زیادہ تر تعداد محکمہ ثقافت صوبہ خیبرپختونخوا کی طرف آس لگائے بیٹھی ہوئی ہے‘ خیبرپختونخوا کی حکومت نے گزشتہ سال 500 سے زائد فنکاروں اور ہنرمندوں کے لئے 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا جو انہیں 8 ماہ تک مسلسل ملتا رہا جس کی وجہ سے فنکار اب اس امید پر ہیں کہ انہیں دوبارہ اسی طرح گھر بیٹھے وظیفہ ملے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ 10‘ 15 سال سے نشترہال بھی بند پڑا ہے یہاں پر فنکاروں کے لئے کوئی پروگرام ترتیب نہیں دیا جارہا جس پر وہ بے روزگار ہیں جبکہ یہاں پر ٹی وی اور ریڈیو پر بھی کام نہ ہونے برابر ہے‘ پشاور ٹیلی ویژن پر 10 سے 12 پروڈیوسر کام کررہے تھے جن میں زیادہ تر اب ریٹائر ہوچکے ہیں لے دے کے صرف دو یا تین پروڈیوسر بچے ہیں اور اسلام آباد ہیڈکوارٹر کی طرف سے پشاور والوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہورہی ہے‘ کیونکہ یہاں پر ہفتے میں صرف ایک یا دو پروگرام آن ایئر ہوتے ہیں‘ کسی زمانے میں پشاور ٹیلی ویژن سنٹر سے تواتر کے ساتھ روزانہ 50 منٹ اور 25 منٹ کے پروگرام آن ایئر ہوتے تھے جن میں اردو ڈرامہ سرفہرست تھا۔

اس کے علاوہ 50 منٹ دورانیہ کا پشتو پروگرام اور 25 منٹ پر مشتمل ہندکو پروگرام پیش کئے جاتے رہے ہیں اب جبکہ ان پروگراموں کی بندش سے نہ صرف فنکاروں کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے بلکہ پی ٹی وی پشاور سے بھی پروگرام نہ پیش کرنے پر سنٹر کو نقصان پہنچ رہا ہے‘ نیشنل ٹیلی ویژن پر پشاور سنٹر سے پیش کئے جانے والے بعض پروگرام نشر مکرر کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں جو پشاور کے مقامی فنکاروں کی حق تلفی ہے کیونکہ اس سلسلے میں انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا جارہا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ فنکاروں کی حالت بہتر بنانے کے لئے پشاور ٹیلی ویژن پر اردو ڈراموں کے ساتھ ساتھ پشتو ڈرامے‘ ہندکو موسیقی کے پروگراموں سمیت صوبہ خیبرپختونخوا میں دیگر بولی جانے والی زبانوں کے پروگرام بھی نشر کئے جائیں تاکہ مقابلے کے اس دور میں یہاں پشاور ٹیلی ویژن سنٹر کا کھویا ہوا مقام اسے دوبارہ مل سکے اور فنکاروں کی مالی حالت بھی سدھر سکے۔

پشاور کے مقامی فنکاروں کو بھی چاہئے کہ محکمہ ثقافت کی طرف نظر رکھنے کے بجائے پشاور ٹیلی ویژن کے کرتا دھرتاؤں سے پروگراموں کے سلسلے میں باز پرس کریں‘ کیونکہ جس طرح پشاور کے 2 صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکاروں افتخار قیصر اور صلاح الدین نے مالی مشکلات کے باعث اپنے آخری ایام میں کسمپرسی کی زندگی گزاری وہ لمحہ فکریہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں