33

علی ظفر نے میشا شفیع کو قانونی نوٹس بھجوادیا

لاہور: اداکار اور گلوکار علی ظفر نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا الزام لگانے پر گلوکارہ میشا شفیع کو بذریعہ ڈاک قانونی نوٹس بھجوادیا۔ذرائع کے مطابق نوٹس میں گلوکار کا کہنا ہے کہ میشا شفیع نے ان پر بےبنیاد الزامات عائد کیے، اور ہراساں کرنےکاجھوٹا دعویٰ کیا۔

ذرائع نے علی ظفر کے حوالے سے بتایا کہ میشا شفیع دو ہفتوں میں معافی مانگیں ورنہ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔دوسری جانب میشا شفیع کے وکیل محمد احمد پنسوٹہ نے کہا ہے کہ انہیں علی ظفر کی جانب سے کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ کچھ روز قبل میشا شفیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں علی ظفر پر ایک سے زائد مرتبہ جنسی ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔میشا شفیع کا کہنا تھا کہ یہ واقعات اُس وقت پیش نہیں آئے جب وہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں داخل ہوئی تھیں بلکہ یہ سب اُس وقت ہوا جب وہ اپنا نام بنا چکی تھیں۔

میشا شفیع کا کہنا تھا کہ بااختیار اور اپنے خیالات رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا، اگر ان کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

گلوکارہ نے مزید کہا کہ کوئی خاتون جنسی ہراساں کیے جانے سے محفوظ نہیں ہے، ہم اپنے معاشرے میں اس پر بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور خاموشی کی راہ اختیار لیتے ہیں، ہمیں اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ خاموشی کے کلچر کو توڑا جاسکے۔

علی ظفر کا مؤقف

ادھر علی ظفر نے میشا شفیع کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کی۔علی ظفر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ میں بین الاقوامی سطح پر چلنے والی ’می ٹو‘ مہم سے اچھی طرح واقف ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں ایک جوان بچی اور بچے کا والد ہوں، ایک شوہر اور ایک ماں کا بیٹا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ایسا شخص ہوں جو رسوائی اور بے رحمی کے خلاف متعدد بار اپنے، اپنی فیملی، خاندان اور دوستوں کے لیے کھڑا ہوا اور میں آج بھی ایسا ہی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور خاموشی بالکل بھی ایک آپشن نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں