72

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت کی پوزیشن کمزور ہو گئی

پشاور۔جماعت اسلامی کی علیحدگی کے بعد حکومت کی عددی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی ہے اور اس وقت بیس متاثرہ اراکین کو نکال کر 122کے ایوان میں پی ٹی آئی کے اپنے ممبران کی تعداد محض 41رہ گئی ہے جبکہ دیگر جماعتوں کے چار اراکین کی حمایت بھی حکومت کو حاصل ہے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پہلے ہی جن بیس ممبران کو فارغ کرچکی ہے ان میں سے اکثریت کاتعلق خوداسی سے تھا جس کے بعد صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے آٹھ اراکین کوساتھ ملاکر اس کے حامی اراکین کی تعداد 53رہ گئی تھی مگر اب جماعت کے فیصلے کے بعد حکومتی اراکین کی تعداد مزید کم ہوکر 45رہ جائے گی یو ں یہ ملکی تاریخ کی پہلی اقلیتی حکومت بن جائے گی ۔

جماعت اسلامی کے فیصلے کے باوجودوصوبائی حکومت کی طرف سے بجٹ پیش کیے جانے کافیصلہ برقرار رکھاگیاہے اور اس کے لیے اب اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے حصول کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں تاکہ مشترکہ طور پر بجٹ تیار کرکے منظور کرایاجاسکے جس میں جماعت اسلامی نے پہلے سے ہی تعاون کااعلان کررکھاہے ۔دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے نئے بجٹ کی تیاری کافیصلہ اپوزیشن جماعتوں کے تعاون اور مشاور ت کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق نہ کیاتو پھر نیا بجٹ پیش نہیں کیاجائے گا ۔

اپوزیشن جماعتوں کو رام کرنے کی ذمہ داری مولانا لطف الرحمان کے حوالہ کردی گئی جنہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رائے مانگ لی ہے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے اپوزیشن پر واضح کیاگیاہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں تعاون کرتی ہیں اور اتفاق رائے سے بجٹ تیار اور منظور کرانے پر رضامند ہوتی ہیں تو تب ہی حکومت بجٹ پیش کرے گی بصورت دیگر سابقہ فیصلہ برقراررکھاجائے گا صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق سپیکر اسدقیصر نے اس سلسلہ میں اپوزیشن لیڈر کو اعتمادمیں لیاا س موقع پر مولانالطف الرحمان نے واضح کیاکہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رائے لینے کے بعدحکومت کو آگاہ کردیاجائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں