21

اصغر خان کیس فیصلہ کی روشنی میں نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

اسلام آباد۔وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں پیسے لینے والوں کی تحقیقات کیلئے گریڈ 21 کے آفیسر احسان صادق کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی گریڈ 21 کے احسان صادق کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔

جبکہ گریڈ 20 کے ڈاکٹر عثمان انور اور گریڈ 19 کے ڈاکٹر رضوان بھی کمیٹی میں شامل ہیں نئی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے کمیٹی اصغر خان کیس میں پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کرے گی۔ ڈاکٹر عثمان پہلے بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے نئی تحقیقاتی ٹیم کمیٹی کا قیام سپریم کورٹ کے حکم پر عمل میں لایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق دی جی ایف آئی ایس آئی کی نظرثانی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اصغر خان کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

قبل ازیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پیپلزپارٹی اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کیس سرد خانے کی نذر ہوگیا تھا۔ مرحوم اصغر خان نے عدالت عظمیٰ کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ 1990 ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا راستہ روکنے کیلئے آئی ایس آئی کے سربراہی اسد درانی نے میاں نواز شریف ‘ شہباز شریف‘ میاں عباس شریف‘ غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم‘ محمد خان جونیجو مرحوم‘ غلام مصطفےٰ کھر سمیت اہم سیاستدانوں میں 140 ملین روپے تقسیم کئے تھے۔

سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے اس خط کو از خود نوٹس میں تبدیل کرتے ہوئے اس کی سماعت کا آغاز کیا تھا تاہم بعد میں وہ اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے اور چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس کا فیصلہ سنایا اور اب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نظر ثانی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تمام سیاستدانوں سے تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی اے نے نئی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں