72

رمضان میں شدید گرم موسم سے خود کو نقصان سے کیسے بچائیں؟

اس موسم میں درجہ حرارت اگر 40 یا 42 ہو تو وہ جسم کو 45 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس ہوتا ہے۔

ہمارے جسم کے لیے 40 ڈگری یا اس سے زائد درجہ حرارت کافی زیادہ ہوتا ہے اور اگر گرم ہوا چل رہی ہو تو ہیٹ اسٹروک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

گرم ہوا یا ہیٹ ویو کے نتیجے میں جان جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک کی وجوہات

جسم میں پانی کی کمی

گرم و خشک موسم

گرم موسم میں سخت مشقت یا ورزش

دھوپ میں بہت زیادہ گھومنا

گھر سے باہر کام

علامات

ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں لاحق ہونے والی ایمرجنسی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے تاہم اس کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

جسمانی درجہ حرارت 104 فارن ہائیٹ ہوجانا۔

غشی طاری ہونا

جسم سے پسینے کا اخراج رک جانا

دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھ جانا

جلد سرخ، گرم اورخشک ہوجانا

احتیاطی تدابیر

گھر کے اندر جسمانی کام کرنے کے دوران تمام کھڑکیاں کھول دیں، کراچی جیسے شہر جہاں درجہ حرارت بہت زیادہ ہوجائے، وہاں پنکھے یا اے سی وغیرہ کو اچھی ونٹی لیشن کے طور پر استعمال کرنا چاہئے۔

ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور چست کپڑوں سے گریز کریں۔

گھر سے باہر جاتے ہوئے چھتری کا استعمال کریں تاکہ سورج کی روشنی ڈائریکٹ نہ پڑسکے۔

رمضان کے اوقات کے بعد پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار نہ ہوسکے، جبکہ پھلوں کے جوسز کو بھی استعمال کریں۔

زیادہ مقدار میں چائے اور کافی پینے سے گریز کریں۔

دن میں 2 سے 3 بار نہائیں تاکہ جسم ٹھنڈا رہے۔

ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے پر کیا کرنا چاہئے؟

سب سے پہلے تو ایمبولینس کوطلب کریں یا متاثرہ شخص کو خود ہسپتال لے جائیں (طبی امداد میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے)۔

ایمبولینس کے انتظار کے دوران مریض کو کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کردیں۔

مریض کو فرش پر لٹا دیں اوراسکے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں (تاکہ دل کی جانب خون کا بہاﺅ بڑھ جائے اور شاک کی روک تھام ہوسکے)۔

مریض کے کپڑے ٹائٹ ہوں تو ان کو ڈھیلا کردیں۔

مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کا اسپرے کریں۔

پیڈسٹل پنکھے کا رخ مریض کی جانب کردیں تاہم بجلی نہ ہو تو اخبار سے خود مریض کو ہوا دیں۔

اس سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر نکلتے ہوئے پانی کی بوتل اپنے پاس رکھیں چاہے روزہ ہی کیوں نہ ہو اور طبیعت بگڑنے پر فوری پانی کا استعمال کریں کیونکہ روزے کا کفارہ ہوسکتا ہے مگر جان پھر واپس نہیں آسکتی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں