22

نگراں وزیراعلیٰ تعیناتی پشاورہائی کورٹ میں چیلنج

پشاور۔جسٹس(ر) دوست محمد خان کی بطور نگراں وزیراعلی خیبرپختونخوا تعیناتی کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے اوران کی تعیناتی کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی قرار دیاہے عزیزالدین کاکا خیل ایڈوکیٹ کی جانب سے دائررٹ میں صوبائی حکومت ٗ خیبرپختونخواالیکشن کمیشن اوردیگرمتعلقہ حکام کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاگیاہے کہ سروسزآف پاکستان کے رولزکے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوسال تک کسی عہدے پرتعینات نہیں کیاجاسکتا اوراس رولز کے تحت ملازم پیشہ افراد دو سال تک انتظارکریں گے ۔

لیکن جسٹس (ر) دوست محمدخان کی بطورسپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصہ بعدانہیں خیبرپختونخواکانگراں وزیراعلی مقررکردیاگیاہے جوکہ آئین کے منافی اقدام ہے کیونکہ نگراں وزیراعلی اوروزیراعلی کے حلف میں کوئی فرق نہیں ہے لہذاقوانین پرعملدرآمد ضروری ہے کیونکہ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمدخان نے ہمیشہ آئین کی بالادستی کے لئے کام کیاہے اورنگراں وزیراعلی کی حیثیت سے حلف اٹھاکرانہوں نے خود آئین کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے جج اپنے سٹیٹس اوروقارسے کم عہدہ قبول نہیں کرسکتالہذارٹ پٹیشن منظورکرکے ان کی بحیثیت نگراں وزیراعلی تعیناتی غیرآئینی اورغیرقانونی قرار دی جائے عدالت عالیہ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں