27

’ پاک فوج کی کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں‘

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور اگر 2002 کے انتخابات کو نکال دیں تو یہ تیسرے انتخابات ہوں گے جو پاکستان میں جمہوری عمل کو جاری رکھیں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ خوشی کی بات نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کو آگے لے کر جارہے ہیں اور 25 جولائی کو عوام ملک کو ایک اور جمہوری دور کی جانب لے کر جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے انعقاد میں افواجِ پاکستان کا کوئی براہ راست کردار نہیں، افواجِ پاکستان کا کردار انتخابات میں الیکشن کمیشن کو صرف معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں فوج کی تعیناتی کوئی پہلی مرتبہ نہیں، اس سے قبل بھی افواجِ پاکستان، الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہی ہے، 1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی تعینات کیے گئے تھے جبکہ 2002 کے انتخابات میں 64 ہزار 470 پولنگ اسٹیشن پر ساڑھے 30 ہزار جوان نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2008 کے انتخابات میں 64 ہزار 176 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے، جس پر 39 ہزار فوجی نے فرائض انجام دیے تھے جبکہ 2013 کے عام انتخابات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کافی مشکل تھے، ان انتخابات میں 70 ہزار 185 پولنگ اسٹیشن پر 75 ہزار فوج نے سیکیورٹی فرائض انجام دیے تھے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’2018 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ صاف، شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ان کی مدد کریں، صاف اور شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کسی بھی خوف کے بغیر ہوں، جلسے، جلوسوں کے لیے محفوظ ماحول ہو، پولنگ والے دن بھی ایسا ماحول ہو کہ ووٹرز گھر سے بلا خوف و خطر نکل کر ووٹ ڈالے، اسی طرح الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی عمل کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، تعصب اور پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو اور سب سے اہم اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گتنی کے وقت تعداد اتنی ہی ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر افواج پاکستان کے نمائندے کہیں کوئی بے ضابطگی دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں الیکشن کمیشن کے حکام کو ہی بتایا ہے، افواجِ پاکستان کو انہیں ٹھیک کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کو آرٹیکل 220 اور 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت 6 کام دیے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان کاموں میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کرنا، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کی فراہمی، انتخابی سامان کی ترسیل، ریٹرننگ افسر کے دفتر تک پولنگ اسٹیشن کے تمام مواد کی ترسیل اور اسٹاف کی سیکیورٹی، پولنگ والے دن اسٹیشن کے اندر اور باہر اپنے نمائندے تعینات کرنا اور پولنگ عمل کے بعد تمام بیلٹ باکسز کو واپس الیکشن کمیشن تک پہنچانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے لیے راولپنڈی میں ایک موجودہ تھری اسٹار جنرل کی سربراہی میں آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر قائم کیا ہے۔

بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 کے انتخابات میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، اس سلسلے میں ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے افواجِ پاکستان کو 3 لاکھ سے 71 ہزار 388 اہلکار درکار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں