21

سرکاری گھرمیرٹ پرالاٹ ہونے چاہئیں‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد۔چیف جسٹس پاکستان نے سرکاری گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق ازخودنوٹس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ غیرقانونی قابضین گھرفوری طورپرخالی کریں، پولیس اہلکارغیرقانونی رہائش پذیرہیں، پولیس نے گھرخالی نہ کئے تورینجرزکومددکیلئے بلائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سرکاری گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ اسلام آباد پولیس کے اہلکارگھرخالی نہیں کررہے،پولیس کے ذمہ 35 کروڑکرایہ واجب الادا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی قابضین گھرفوری طورپرخالی کریں، پولیس اہلکارغیرقانونی رہائش پذیرہیں، پولیس نے گھرخالی نہ کئے تورینجرزکومددکیلئے بلائیں گے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس 35 کروڑاداکرے تورقم ڈیم فنڈزمیں جائیگی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سرکاری گھرمیرٹ پرالاٹ ہونے چاہئیں۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا۔ سیکرٹری ہاؤسنگ عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسلام کے سیکٹر جی سکس میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار قابض ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بجلی اور گیس بھی بند کی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ ایک سو چالیس فلیٹس پر اسلام آباد پولیس اہلکار قابض ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری ملازمین میں اتنی جرات ہوتی ہے کہ سرکاری مکانات پر قبضہ کرلیں؟ جو لوگ انتظار میں ہیں ان کا کیا قصور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں