35

خیبرپختونخوا ٗ جانیں بچانے والوں کو انعامات دینے کا فیصلہ

پشاور۔نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب کے دوران لوگوں کو ریسکیو کرنے والے پرائیویٹ تیراک کو سرٹیفکیٹس، لائف جیکٹ اور نقد انعام سے نوازا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سانپ کے کاٹنے کے انجکشن کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ گلیشرز کو پگھلنے سے بچانے کیلئے ماحولیات کو محفوظ بنانے والی ایجنسی کے ساتھ ملکر سائنسی طریقہ کار اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے MET ڈیپارٹمنٹ کو فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔ دریاؤں کے بہاؤ میں مختلف مقامات پر لوہے کی رسی نصب کریں۔ انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو سرسبز مقامات میں کوئی ہاؤسنگ سکیم کے قیام کے خلاف نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی جبکہ سوات، دیر، چترال ، شانگلہ اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ڈیم بنانے کیلئے خصوصی اتھارٹی کے قیام کیلئے تجویز پیش کی۔ انہوں نے بے روزگار گریجویٹس کو زرعی زمینوں میں 25 فیصد پارٹنر شپ دینے کی بھی تجویز دیدی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پراونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ریلیف جسٹس (ر) اسداللہ خان چمکنی ، وزیر اطلاعات ظفر اقبال بنگش، ڈائریکٹر جنرل ریسکو1122 ڈاکٹر خطیر احمد، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری اکبرخان اور دوسرے متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ ڈائریکٹر جنرل پراونشل دیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 نے وزیراعلیٰ کو مون سون 2018 کی تیاری کے حوالے سے 2018 کے ہنگامی پلان، ڈویژنل کنٹرول روم کے قیام، تیراک کی لسٹ، نیشنل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پاک فوج، ڈیم اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون ، فوکل پرسن کے کردار، موسم کی پیشنگوئی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر، نکاسی آب مشینوں اور کشتیوں کی تعداد وغیرہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

وزیراعلیٰ نے پراونشل ڈیزازسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو سراہا اور مذکورہ اقدامات اٹھانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کے دوران سڑکوں کو کھولنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں ۔ تمام ہسپتالوں کو مکمل طور پرفعال بنایا جائے۔ دوست محمد خان نے پراونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلوں میں لوگوں کو بچانے کیلئے ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے ایک سمری تیار کریں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ہمیں ہیلی کاپٹر مہنگے کرایوں پر لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ترقیاتی بجٹ 20 فیصدبڑھانے اور آمدن کے نئے ذرائع جیسے آئل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنا، زراعت کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو خودروزگار مواقع دینے کیلئے سرمایہ کاری کرنا ہوگا اور یو ں ہمارے نوجوان روزگار ڈھونڈنے کی بجائے روزگار دینے والے بن جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں