41

آن لائن خریداری سال میں دگنی، حجم 100 ارب ہوگیا

کراچی: پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کا حجم 100ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ایک سال کے دوران انٹرنیٹ کے ذریعے خریدی گئی اشیا کی مالیت میں 100فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، الیکٹرونک ادائیگیوں کی سہولتیں خریداری کے رجحان میں تبدیلی کے بنیادی اسباب ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ میں شامل خصوصی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مقامی اور انٹرنیشنل ای کامرس مرچنٹس کی فروخت کا حجم مالی سال 2016-17میں 20.7ارب روپے تھا جو 2017-18 میں بڑھ 40.1 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

اس طرح سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ای کامرس کے حجم میں 94 فیصد تک اضافہ ہوا، یہ خریداری کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز، انٹربینک فنڈز ٹرانسفر کی سہولت، پری پیڈ کارڈز اور موبائل والٹس کے ذریعے کی گئی جبکہ اشیا موصول ہونے پر نقد قیمت کی ادائیگیوں کی مالیت اس حجم میں شامل نہیں ہیں۔

مارکیٹ کے تخمینے کے مطابق ای کامرس کے ذریعے پاکستان میں 80سے 90فیصد اشیا کی ادائیگی خریدی گئی۔ اشیا موصول ہونے پر (کیشن آن ڈلیوری) ادا کی جاتی ہے، کیشن آن ڈلیوری کی مالیت کو شامل کیا جائے تو مالی سال 2017-18میں ای کامرس کا مجموعی حجم 99.3ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مالی سال 2019-20تک ای کامرس لین دین کا حجم 158ارب روپے تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی اور فورجی ٹیکنالوجی عام ہونے، برانچ لیس بینکاری کی سہولت اور بینکوں کے مابین فنڈز ٹرانسفر کے انتظام سے ای کامرس کے لیے سازگار ماحول مہیا ہوا ہے۔ تاہم بین الاقوامی رجحان کے مقابلے میں پاکستان ای کامرس کے فروغ میں خطے کے ملکوں اور قابل موازنہ ملکوں چین، سری لنکا، بھارت، ویتنام، فلپائن، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی پیچھے ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت وترقی (یون این سی ٹی اے ڈی) کے بزنس ٹو کسٹمر ای کامرس ریڈینیس انڈیکس 2017کی مرتب کردہ فہرست میں پاکستان کو 144ملکوں کی فہرست میں 120ویں نمبر پر کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں چین 65ویں، سری لنکا 73ویں، ویتنام 74، بھارت 83، فلپائن 96، بنگلہ دیش 103 جبکہ نیپال 108ویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔

ملک میں صارفین کے حقوق کے وفاقی اور صوبائی قوانین کے ساتھ الیکٹرونک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002کے تحت بھی ای کامرس خریدوفروخت کو تحفظ حاصل ہے تاہم پاکستان میں صارفین کے تحفظ کے قوانین کے موثر اطلاق کے فقدان کے ساتھ صارفین کی سطح پر بھی شعور کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈیجیٹل سہولتوں کو متقابل ملکوں کی مانند تیزی سے فروغ نہیں مل رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں