37

پروٹیز کا گھر میں شکار، گرین کیپس اُڑان بھرنے کو تیار

لاہور:  پروٹیزکاگھر میں شکار کرنے کا عزم لیے پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ جنوبی افریقہ اڑان بھرنے کو تیار ہے۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کے بیشتر پلیئرز کی دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے لاہور سے براستہ دبئی روانگی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شیڈول تھی، کپتان سرفراز احمد، اسد شفیق اورشان مسعود کراچی، امام الحق، فخرزمان، اظہر علی، حارث سہیل، بابر اعظم، محمد رضوان، شاداب خان، محمد عباس، حسن علی، محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف لاہور سے عازم سفر ہو کر دبئی میں اکھٹا ہوں گے جہاں سے جمعرات کو جنوبی افریقہ روانگی طے ہے جب کہ فیملی مسائل کی وجہ سے یاسر شاہ کو فی الحال پاکستان میں رکنے کی اجازت دیدی گئی ہے، لیگ اسپنر 20 دسمبر کو روانہ ہو جائیں گے، وہ ساؤتھ افریقہ انوی ٹیشن الیون کے خلاف 19 دسمبر سے شروع ہونے والے 3 روزہ پریکٹس میچ میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین پہلا ٹیسٹ26 دسمبر کو سینچورین میں کھیلا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے سلیم خالق کو خصوصی انٹرویو میں کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ جان بوجھ کر کوئی نہیں ہارتا،نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں چند غلطیوں کی وجہ سے جیتی بازی ہار گئے تو بڑی تنقید ہوئی۔ دوسرے میچ میں اسی ٹیم نے کم بیک کیا،تیسرے میں اہم لمحات میں کمزور پڑ جانے کی وجہ سے ناکام ہوئے،کھیل میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں، ٹیم جیت رہی ہو تو خامیاں چھپ جاتی ہیں، ہار جائے تو نمایاں نظر آنے لگتی ہیں، میں مایوس تو نہیں لیکن کوشش کے باوجود ناکامی پر ہونے والی تنقید پر دکھ ہوتا ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہماری ٹیم میں تجربے اور کارکردگی میں تسلسل کی کمی ہے، ایک میچ میں اچھا کھیلتے تو دوسرے میں غلطیاں کرتے ہیں، بیٹنگ میں مسائل ہیں،ہم خاص طور پر چوتھی اننگز میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پیش آنے والی مشکلات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ٹیسٹ میچز میں 15سیشنز تک معاملات کو قابو میں رکھنے کیلیے محنت کرنا پڑتی ہے۔

کپتان نے کہا کہ بیٹسمین رنز بنا رہے ہیں لیکن جہاں ضرورت ہو کریز پر قیام طویل نہیں کرتے، اظہر علی نے ایک سنچری اور 3ففٹیز بنائیں، ان کے سوا دیگر بیٹسمین 30یا 40رنز سے آگے نہیں بڑھے،اننگز کو مزید طول دینے میں کامیاب ہوں،ٹیل اینڈرز بھی ساتھ دیتے ہوئے 15 یا 20رنز کا حصہ ڈالیں تو پہلی اننگز میں برتری 150سے زائد اور فتح کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں، آئندہ سیریز میں بہتر کھیل پیش کرنے کیلیے پُرعزم ہیں۔

دورئہ جنوبی افریقہ سے قبل مایوسی پھیلانے والے منفی تاثرات زیادہ ہونے کے سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ ہم کسی گھبراہٹ کا شکار نہیں،پاکستان ٹیم مشکل حالات میں حیران کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں بھی گرین شرٹس سے کوئی توقعات وابستہ نہیں کی گئی تھیں لیکن ہم ٹائٹل جیت کر وطن واپس لوٹے،اس بار بھی مثبت کرکٹ کھیلیں گے،جنوبی افریقہ کی تیز پچز اور آؤٹ فیلڈ پر اسٹرائیک ریٹ بھی بہتر ہوگا،میرے خیال میں پروٹیز کیخلاف بیٹسمینوں کی تکنیک سے زیادہ دل بڑا ہونا چاہیے،وہاں گیند بیٹ پر آئی تو رنز بنیں گے،پہلی اننگز میں بیٹسمین 280 رنز بھی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو بولرز میزبان ٹیم کو دباؤ میں لاسکتے ہیں۔

کپتان نے کہا کہ پروٹیز کیخلاف پیس بیٹری کیلیے صلاح مشورے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ محمد عباس یواے ای میں اچھے ردھم میں تھے مگر انجرڈ ہوگئے، نیوزی لینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ میں حسن علی بھی مسائل کا شکار ہوئے،شاہین شاہ آفریدی نے صلاحیتوں کی جھلک دکھا دی ہے، وہ اپنی طویل قامت کی وجہ سے جنوبی افریقی کنڈیشنز میں بڑے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یاسر شاہ کے ساتھ شاداب خان کو آزمانے کا فیصلہ کنڈیشز دیکھ کر کریں گے،عام طور پر کیپ ٹاؤن کے سوا دیگر وینیوز پر ایک سے زائد اسپنرز کھلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں