107

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مجوزہ لوکل گورنمنٹ سٹرکچر پر اظہار اطمینان

پشاور۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے مجوزہ لوکل گورنمنٹ سٹرکچر خیبرپختونخواسے اُصولی اتفاق کیا ہے اور اطمینان ظاہر کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کا لوکل گورنمنٹ ماڈل زیادہ معقول اور قابل عمل ہے ۔

اُنہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کا اولین اور حتمی مقصد صوبے میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید موثر ، دیر پا اور مضبوط بنانا ہے ۔ لوگوں کو اُن کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی اور اُن کے مسائل کا فوری ازالہ پی ٹی آئی کا منشور ہے ۔ اسی وژن اور منشور کی بنیاد پر عوام نے پی ٹی آئی کو صوبے میں دوبارہ حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار، سپیشل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ محمد خالق، سیکرٹری قانون، سیکرٹری بلدیات اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس کو خیبرپختونخوا کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں مجوزہ تبدیلیوں ، ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل کی شرح ، کونسلز ، تحصیل ، ویلج اور نیبر ہڈ کونسلوں کی ترکیب اور اس کے طریقہ کار ، دیگر اصلاحات اور ا نتخابات کے انعقاد اوراس سلسلے میں ٹائم لائن پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا اور پنجاب کے لوکل گورنمنٹ سٹرکچر کا بغور جائزہ لیا گیا تاکہ ممکنہ حد تک ایک یونیفارم سسٹم لایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ سٹرکچر پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحصیل اور ضلع کونسل کے اُمور کا دو ٹوک اور واضح تعین ہونا چاہیئے تاکہ فرائض اور ذمہ داریوں کی اوور لیپنگ سے بچا جا سکے ۔ انہوں نے تحصیل ممبران کے انتخاب کا بھی حقیقت پسندانہ اور قابل عمل طریقہ تجویز کرنے کی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے واضح کیاکہ مجموعی کاوش کا حتمی مقصد مقامی سطح پر حکمرانی کے بہترین نظام کا قیام ہونا چاہیئے ۔
ہم عوام کو موثر خدمات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اُن کے مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے قیام مقصد بھی یہی ہے کہ عوام اپنی ترقی خود پلان کر سکیں اور اپنی فلاح کیلئے پالیسی سازی کے عمل میں شریک ہوسکیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا بشمول نئے قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر ویلج کونسلز کی شرح 86 فیصد جبکہ نیبر ہڈ کونسلز کی شرح 14 فیصد ہے ۔ اجلاس میں پشاور کو اربن اور رورل دو تحصیلوں میں تقسیم کرنے کی بھی تجویز دی گئی جس سے اُصولی اتفاق کیا گیا ۔

اجلاس کو خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ اصلاحات کی تکمیل اور انتخاب کے انعقاد کی ٹائم لائن سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ بل کا مسودہ تیار ہے جو جانچ پر کھ کے بعد فروری کے اواخر تک صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔نئے قانون کی روشنی میں الیکشن رولز کی تشکیل بھی مارچ کے وسط تک یقینی بنائی جائے گی اور اپریل سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈی لیمٹیشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اجلاس کو صوبے میں مرحلہ وار انتخابات کا انعقاد عمل میں لانے کی بھی تجویز دی گئی جس سے اُصولی اتفاق کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں