70

خلائی بادبانی سیارچے نے بھری اڑان ​​​​​​​

پیساڈینا، کیلیفورنیا: ایک عجیب و غریب شکل کا بہت دلچسپ خلائی جہاز اس وقت خلا میں بھیجا گیا ہے جو سورج کی روشنی سے خلائے بسیط میں سفر کرتا رہے گا۔

اس خلائی جہاز یا سیٹلائٹ کا نام لائٹ سیل ٹو رکھا گیا ہے۔ اسے 25 جون کو اسپیس ایکس فالکن راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا شمسی بادبان چھوٹے ڈبوں میں بھر کر رکھا گیا تھا جو اب کھل گئے ہیں اور لائٹ سیل مکمل طور پر کھل چکا ہے۔ اس کی چادر کی موٹائی صرف ساڑھے چار مائیکرومیٹر ہے جو انسانی بال سے بھی باریک ہے جبکہ مجموعی طور پر یہ 32 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

جب سورج کی روشنی کے فوٹون اس پر پڑتے ہیں تو اس کی توانائی عین ہوا کی قوت کی طرح اسے دھکیلتی ہے اور اسی بنا پر یہ آگے بڑھتا رہے گا۔ ابھی اس کی رفتار کم ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی رفتار میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

2015 میں اس کا پہلا ماڈل بنایا گیا تھا۔ سیل ون کے نام سے بنایا گیا یہ سیٹلائٹ ناکام ہوگیا تھا۔ اب لائٹ سیل ٹو کو زیادہ بلندی سے خلا میں بھیجا گیا ہے۔ یہاں مزاحمت کم ہے اور یہ ایک سال تک مدار میں موجود رہے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی کامیابی سے ایسے خلائی جہازوں کا راستہ کھلے گا جو سورج کی روشنی یا پھر زمین سے لیزر شعاعوں کے ذریعے خلا میں سفر کرتے رہیں گے؛ یہ جہاز وہاں تک پہنچ سکیں گے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سیل ٹو نامی جہاز کو اسٹیفن ہاکنگ نے بھی بہت امید افزا قرار دیا تھا کیونکہ ایسے ہلکے پھلکے بادبانی خلائی جہاز بہت طویل سفر طے کرسکیں گے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان کی رفتار بڑھتی جائے گی اور یوں نظری طور پر یہ روشنی کی رفتار کے کچھ حصے تک کی رفتار حاصل کرسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں