22

بھارت نے غلطی کی تو خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت ہم پر حملہ کرے گا تو ہم جواب دیں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پیش کی۔

مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں اس اجلاس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، اس اجلاس کو صرف پاکستانی قوم نہیں دیکھ رہی بلکہ کشمیری اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اسی طرح شور کرنا چاہتی ہے تو میں بیٹھ جاتا ہوں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے سنے پھر ہم اس کا مدلل جواب دیں گے۔

اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس سیشن کی اہمیت صرف کشمیریوں، پاکستان کے لیے نہیں بلکہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، یہ بہت اہم ہے کہ تحمل سے سنیں کہ آج یہاں سے بہت اہم پیغام جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام پڑوسیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ خطے میں سرمایہ کاری آئے گی تو غربت کا خاتمہ ہوگا، میں نے بھارت سے رابطہ کیا کہ آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں گے ہم دو بڑھائیں گے، افغانستان، چین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکا کا دورہ کیا۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا دورہ اسی کوشش کی کڑی تھی کہ ماضی میں جو بھی مسائل تھے وہ ختم ہوں تاکہ پاکستان کو استحکام ملے، ترقی ملے اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کیا تھا، ہم نے انہیں سمجھایا کہ 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ہوا تو تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ) منظور کیا تھا کہ پاکستان کی زمین کو کسی دہشت گرد گروہ کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد پلوامہ واقعہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ میں نریندر مودی کو سمجھایا کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، لیکن اس وقت بھارت میں انتخابات تھے اور انہیں کشمیر میں ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا مقصد جنگی جنون اور پاکستان مخالف جذبات پیدا کر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا تھا، بھارت نے ڈوزیئر بعد میں بھیجا طیارے پہلے بھیجے اور پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیا، ہم نے ان کا پائلٹ پکڑا تو یہ بتانے کے لیے رہا کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم بھارتی انتخابات تک خاموش ہوگئے، بشکیک میں منعقد کانفرنس میں بھارت کا رویہ دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اس لیے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دو طرفہ طور پر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا اور برصغیر میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایک ارب افراد متاثر ہورہے ہیں اس لیے امریکی صدر سے ملاقات میں درخواست کی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کا رد عمل آپ کے سامنے تھا۔

عمران خان نے کہا کہ بشکیک میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت کو ہم سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں اور اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا بلکہ یہ ان کے انتخابات کا منشور تھا اور یہ ان کا بنیادی نظریہ ہے جو آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں گے، یہ صرف ہندوؤں کا ملک ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس میں مسلمانوں کے خلاف تعصب تھا اور جب انگریز جارہے تھے تو ان کا ارادہ تھا کہ مسلمانوں کو اس ملک میں دبا کر رکھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ہندو ۔ مسلم اتحاد کے سفیر سمجھے جاتے تھے، کیا وجہ تھی کہ انہوں نے الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھارت میں جو لوگ دو قومی نظریے کو نہیں مانتے تھے آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ ٹھیک تھا، وہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں تمام اقلیتوں مسلمانوں اور مسیحی برادری کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہورہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے 11 اگست کی معروف تقریر میں کہا تھا کہ ’سب اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں’ اور ہم غلطی سے کہتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر تھے۔

انہوں نے کہا کہ دراصل یہ دو نظریے تھے، ایک تو نسل پرست نظریہ تھا کہ مسلمانوں کو برابری کا درجہ نہیں دیتے، دوسرا نظریہ قائداعظم کا تھا کہ یہاں سب برابر ہیں، وہ نظریہ ریاست مدینہ سے لیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نبیﷺ نے آخری خطبے میں کہا تھا کہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں، انہوں نے نسل پرستی کو مسترد کیا تھا اور پاکستان جس نظریے پر بنا اس میں تعصب نہیں تھا۔

عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے 11 اگست کی تقریر اور تحریک پاکستان کی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان میں انہیں بنیادی حقوق نہیں ملیں گے تو وہ مسلم کارڈ نہیں کھیل رہے تھے، جس نظریے سے ان کا مقابلہ ہے وہ اسے سمجھ گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جو بھارت میں ہورہا ہے ہم اس کے مخالف ہیں، ہمارے ملک میں جب اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہو تو ہم اپنے دین اور نظریے کے خلاف جاتے ہیں، لیکن موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت جب گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے اور لوگ انہیں مار دیتے ہیں، جو انہوں نے کل کشمیر میں کیا، پچھلے 5 برس جو تشدد کیا اور جو مسیحی برادری کے ساتھ کیا یہ بھارت کا نظریہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا مقابلہ نسل پرست نظریے سے ہیں، کشمیر میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا لیکن وہ اپنے ملک کے آئین، اپنی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر کے فیصلے کے خلاف گئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور شملا معاہدے کے خلاف گئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرکے مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کے خلاف ہے، اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے نظریے کے لیے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا قانون منظور کردیا تو وہ کشمیری جو 5 سال سے جاری تشدد کے باعث جدوجہد کررہے ہیں کیا وہ قانون کی وجہ سے فیصلہ کریں گے کہ ہماری جدو جہد ختم ہوگئی، ہم غلام بننے کے لیے تیار ہیں یہ تحریک تو مزید شدت پکڑے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے، بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مزید دبانا ہے، وہ انہیں اپنے برابر نہیں سمجھتے کیونکہ اگر وہ کشمیریوں کو اپنے برابر سمجھتے تو وہ جمہوری طور پر کوئی کوشش کرتے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنےکی کوشش کرے گی اور جب وہ ایسا کرے گی تو ردعمل آئے گا تو میں آج پیش گوئی کرتا ہوں کہ پھر پلوامہ کی طرز کا واقعہ ہوگا اور بھارت وہی کہے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد آئی جبکہ اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔

قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

خیال رہے کہ پارلیمان کا مشترکہ صدر مملکت عارف علوی نے طلب کیا تھا، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہوئے جنہوں نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔

اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا، قومی ترانے کے بعد وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرارداد پیش کی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکر شامل تھا۔

تاہم اس قرارداد میں بھارت کی جانب سے ختم کی گئی مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج شروع کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر ہی نہیں اس کو شامل ہونا چاہیے۔

مذکورہ مطالبے کی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی تائید کی، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر کی ہدایت پر اعظم سواتی نے ترمیم شدہ قرارداد ایوان میں پڑھتے ہوئے اس میں آرٹیکل 370 کا ذکر شامل کیا۔

تاہم اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کسی بھی حکومتی رکن کو بات کرنے نہیں دی، جس کے بعد اسپیکر نے 20 منٹ کے لیے ایوان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں