20

سری لنکن سیکیورٹی وفد کا دورہ نیشنل اسٹیڈیم، انتظامات پر اطمینان

پاکستان اور سری لنکا کے مابین ٹیسٹ میچز کو کراچی اور لاہور میں ممکن بنانے کے لیے سری لنکن سیکیورٹی وفد پاکستان پہنچ گیا، نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کروایا گیا جہاں اس نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق موہن ڈی سلوا کی سربراہی میں 4 رکنی سری لنکن سیکیورٹی وفد نے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ بھی کروایا گیا جبکہ اس سے قبل سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کراچی میں بڑی بیٹھک ہوئی۔

سری لنکن وفد نے بریفنگ کے بعد سیکیورٹی اتنظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ بھرپور انتظامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

موہن ڈی سلوا کا کہنا تھا کہ دعوت دینے کے لیے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکر گزار ہوں، جو ہمیں بریفنگ دی گئی اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے سینیئر افسران کے ساتھ یہاں آئے، 2009 حملے کے بعد کھلاڑیوں سمیت ہماری قوم کو بہت سے تحفظات تھے تاہم انہیں کا جائزہ لینے کے لیے یہاں آئے تھے۔

انہیں نے یہ بھی کہا کہ سی پی او میں جو بریفنگ دی گئی وہ قابل تعریف ہیں، واپس سری لنکا جاکر اپنی رپورٹ مرتب کریں گے اور پی سی بی کو آگاہ کریں گے۔سری لنکن سیکیورٹی وفد اپنی سفارشات مرتب کرکے سری لنکا کرکٹ بورڈ کو پیش کرے گا جس کی روشنی میں بورڈ سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان پر فیصلہ کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز شیڈول ہے جو ممکنہ طور پر پاکستان میں کھیلی جاسکتی ہے۔تاہم ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی دوڑ کے لیے کھیلے جارہے یہ میچ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی کھیلے جاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف اپنی ٹیسٹ سیریز پاکستان میں کھیلنے کے لیے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا تھا۔

پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) وسیم خان نے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے اپنا سیکیورٹی وفد پاکستان بھیجے کی درخواست کی تھی جنہیں سیکیورٹی پر بریفنگ دی جاسکے۔

سنگاپور میں ہونے والی ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے اجلاس کے دوران ایک علیحدہ ملاقات میں پی سی بی حکام نے سری لنکن کرکٹ حکام کو دعوت نامے دیے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیے اب تک صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کا ہی انعقاد کیا ہے، تاہم اگر پی سی بی کا یہ اقدام حقیقت بن جاتا ہے تو پاکستانی شائقین ٹیسٹ کرکٹ کو بھی اپنے ملک میں ہوتا دیکھیں گے۔

خیال رہے کہ 3 مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان میں کھیلنے سے معذرت کرلی تھی۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے جب سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا تو اس وقت پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا اور مہمان ٹیم اس سلسلے میں صبح کے وقت بس میں قذافی اسٹیڈیم لاہور ہی آرہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں