34

ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کیلئے موبائل ایپ لانے کا فیصلہ

رواں مالی سال کے لیے ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ یف بی آر نے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لیے موبائل ایپ لانچ کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس ریٹرن ایپ آئندہ ہفتے متعارف کروائی جائے گی، جس کی مدد سے کاروباری شخصیات اور تنخواہ دار افراد اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں۔

تنخواہ دار افراد، انفرادی شخصیات اور ایسوسی ایشنز کے لیے سال 2019 کے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے الیکٹرونک فارم ایف بی آر کی ویب سائٹ پر چند ضروری ترامیم کے ساتھ جلد جاری کردیا جائے گا، جبکہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2019 ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان اور ممبر پالیسی ان لینڈ ریونیو حامد عتیق نے بتایا کہ ’ٹیکس آسان موبائل‘ میں ایک نیا آئکن بنایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ موبائل ایپ ای-ریٹرنز فائل کرنے میں ٹیکس دہندگان کی مدد کرے گی جبکہ یہ گوگل کے پلے اسٹور پر باآسانی دستیاب بھی ہوگی۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ ایپ انکم ٹیکس کیلکولیٹر، ہاؤس رینٹ الاؤنس کیلکولیٹر، رینٹ ریسپٹ جنریٹر یا دیگر کسی معاملے میں ٹیکس دہندگان کی مدد کرے گی یا نہیں؟

ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ ایپ کے استعمال کو سکھانے کے لیے ایک آن لائن ویڈیو بھی موجود ہوگی جو ٹیکس دہندگان کی مدد کرے گی، یہ نئی ایپ لوگوں کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے کام کو نہ صرف آسان بنائے گی بلکہ اس سے وقت بھی بچایا جاسکے گا۔

ترجمان نے بتایا کہ ایف بی آر مخصوص افراد کو لائسنس جاری کر نے کے ضابطے کا مسودہ بھی تیار کر رہا ہے جو بڑی تعداد میں ای-ریٹرنز فائل کر سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت 2 نجی کمپنیوں کے پاس اپنی ایپ موجود ہیں جو ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم نئے ضابطے کے مطابق ایف بی آر لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کو یہ اجازت دے گا کہ وہ ایف بی آر کے سسٹم میں بڑی تعداد میں ریٹرن فائل کر سکیں۔

ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے سے متعلق ایف بی آر ترجمان نے بتایا کہ ایف بی آر سیکٹر کے اعتبار سے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے فارم ترتیب دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھوٹی صنعتوں اور تعلیمی اداروں سمیت مختلف سیکٹرز کے لیے نئے فارمز آئندہ ہفتے جاری کر دیے جائیں گے۔

دریں اثنا ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے ہسپتالوں اور کلینکس کے لیے آسان ریٹرن فارم متعارف کروائے جائیں گے جس کا مقصد تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

ایف بی آر ترجمان نے بتایا کہ ایف بی آر جیولرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے فارم کا مسودہ تیار کر رہی ہے، تاکہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لیے ان کے مسائل کا تدارک کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں