35

مسلز بنانے کے لیے بہترین عمر کیا ہے؟

اگر آپ مسلز بنانا چاہتے ہیں مگر دہائیوں تک ورزش سے دور رہے ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی عمر میں اس مقصد کو حاصل کرنا ممکن ہے۔

درحقیقت عمر کی 7 ویں یا 8 ویں دہائی میں ورزش کرنے سے بھی بہت زیادہ حاصل کیا جاسکتا ہے، چاہے ساری عمر بیٹھ کر ہی کیوں نہ گزاری ہو۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برمنگھم یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بڑھاپے میں بھی جم جاکر مسلز بنانا ممکن ہے۔ درحقیقت بڑھاپے میں بھی ایسے مسلز بنائے جاسکتے ہیں جو اس عمر کے بہت زیادہ تربیت یافتہ ایتھلیٹس کے ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی میں فٹنس کے حصول میں کبھی بھی تاخیر نہیں ہوتی، یہاں تک کہ سیڑھیاں چڑھنا بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے فرنٹیئرز ان فزیولوجی جرنل میں شائع ہوئے، جس کے دوران بزرگ افراد کے 2 گروپس میں مسلز بنانے کی صلاحیت کا موازنہ کیا گیا۔

پہلے گروپ کو ماہر ایتھلیٹ قرار دیا گیا جن میں 70 اور 80 سال سے زائد عمر کے 7 افراد شامل تھے اور تاحال کھیلوں کی اعلیٰ سطح میں حصہ لیتے تھے۔ دوسرا گروپ اسی عمر کے 8 صحت مند افراد پر مشتمل تھا مگر انہوں نے کبھی ورزش کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ہر شخص کو مختلف ورزشیں کرنے کا کہا گیا جن میں وزن اٹھانے والی مشین ایکسرسائز مشین بھی شامل تھی۔

محققین نے ورزش سے 48 گھنٹے پہلے اور ورزش کے 48 گھنٹے بعد مسلز کے نمونے لیے اور دیکھا گیا کہ ورزش سے مسلز پر کس حد تک اثرات مرتب ہوئے۔ پھر دیکھا گیا کہ پروٹین کس طرح مسلز میں بن رہے ہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ ماہر ایتھلیٹ کی مسلز بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوگی کیونکہ وہ طویل عرصے سے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔ مگر نتائج سے معلوم ہوا کہ ورزش بنانے کے حوالے سے دونوں گروپس کی مسلز بنانے کی گنجائش یکساں ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ زندگی بھر ورزش کرتے رہے ہو یا نہیں، مگر آپ کسی بھی عمر میں ورزش کرنا شروع کرکے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً طویل المعیاد بنیادوں پر ورزش اچھی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہے مگر درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ورزش کرنا بھی عمر بڑھنے سے آنے والی مسلز کی کمزوری کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔

ان کے بقول چہل قدمی اور سیڑھیاں چڑحنا یا سودا سلف سے بھرا تھیلے اوپر نیچے کرنا بھی ورزش سمجھے جاسکتے ہیں اور فائدہ پہنچاتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں