36

مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت دوبارہ جارحیت کا مرتکب ہوسکتا ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر جارحیت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے شمالی امریکا کی مسلم کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے نبیﷺ سے محبت کرتے ہیں، ہمیں دہشت گردی اور اسلام کو الگ رکھنا ہوگا، ہمیں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنا ہوگا، دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اسلام امن کا مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہارکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کومجروح کیاجائے، 9/11 سے پہلے تامل ٹائیگرز خودکش دھماکوں میں ملوث تھے، 9/11 کے بعد دہشت گرد حملوں کو اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے، 9/11 کے بعد بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کانام دیدیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، بھارتی تنظیم آر ایس ایس کا نظریہ ہٹلر اور موسولینی کی سوچ کاحامل ہے، پاکستان دنیا میں امن کے لیےکوششیں جاری رکھےگا، بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہوگیاہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے، بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی، مقبوضہ وادی میں26دن سے کرفیو نافذ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کشمیریوں سے حق خودارادیت چھین رہی ہے، بھارت اب سیکولر ریاست نہیں رہا، آرایس ایس کا نظریہ ہندو برتری کا ہے، مودی کا بھارت گاندھی اور نہرو کے ہندوستان کے برعکس ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، نازیوں سے متاثر جماعت بھارت پر قابض ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے فروری کی طرح بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرے گا، خدشہ ہے بھارت مقبوضہ وادی سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی قدم اٹھاسکتا ہے، ہمیں خدشہ ہے بھارت آزاد کشمیرمیں کارروائی کرے گا، بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو پاکستان جوابی کارروائی کرے گا، کشمیر کے باعث 2 نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوچکی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرناچاہتی ہے، مقبوضہ وادی کی قیادت کو حراست میں لیا گیا ہے، دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے، اہل کشمیر کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے، مسئلہ کشمیر پر میں نے خود متعدد سربراہان مملکت سے بات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں