39

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ‘ناقابل قبول اقدامات’ پر عمران خان اور امریکی سینیٹر کی تشویش

وزیر اعظم عمران خان اور امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسلامک سوسائٹی آف شمالی امریکا (اسنا) کے 56ویں کنونشن سے علیحدہ علیحدہ خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کی فریاد پر اپنی آواز اٹھائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 2020 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹ کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کشمیر کی صورتحال پر مجھے گہری تشویش ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ کردیا ہے جبکہ وادی کا مواصلاتی بلیک آؤٹ بھی جاری ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سیکیورٹی کے نام پر کریک ڈاؤن سے کشمیریوں کو صحت کی سہولیات تک رسائی بھی نہیں دی جارہی جبکہ بھارت کے کئی قابل احترام ڈاکٹروں نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے سفر پر پابندی عائد کردی ہے جس سے مریضوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں’۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ ‘مواصلات کی بندش کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا اور امریکی حکومت کو عالمی انسانی قوانین اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ امن قرارداد کی حمایت میں کھل کر بات کرنی ہوگی، جو کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام ہے’۔

وزیر اعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں ہندو قوم پرست جماعت آر ایس ایس کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا جسے انہوں نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرپرستی کرنے والی جماعت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن اسنا کے پلیٹ فارم سے آپ کو بھی کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ لوگوں کو اس فلسفے کے بارے میں بتایا جا سکے، جس نے بھارت پر قبضہ کررکھا ہے، مغربی ریاستوں کو آر ایس ایس کے بارے میں سمجھانا ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آر ایس ایس کی جماعت ہندو نسل پرستی اور بھارت سے مسلمانوں کی نسل کشی پر یقین رکھتی ہے، لوگ تحقیق کریں اور اس کی تخلیق کے بارے میں حقائق جانے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘بی جے پی انتخابات جیت کر مزید قوت کے ساتھ واپس آئی ہے، ہم اربوں لوگوں کے ملک کی بات کررہے ہیں جہاں جوہری ہتھیار انتہا پسند سوچ کے ہاتھوں میں ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نازیوں نے ثابت کیا تھا کہ چھوٹا مگر منظم نظریاتی گروہ ملک پر کیسے قبضہ کرسکتا ہے، اور ایسا ہی کچھ بھارت میں بھی ہورہا ہے، شدت پسندانہ نظریات نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بی جے پی حکومت کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرکے اسے مسلم اکثریتی صوبے سے مسلم اقلیتی صوبہ بنانا چاہتی ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے، آپ کسی بھی مقبوضہ زمین کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتے’۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘ہم مانتے ہیں کہ آر ایس ایس کے غنڈوں کو عوام میں چھوڑ دیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جو ہورہا ہے اس کے خلاف اسنا آواز اٹھائے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے خدشہ ہے کہ یہ نظریہ یہاں نہیں رکے گا، انہوں نے جن کو چراغ سے باہر نکال دیا ہے، یہ خود سے واپس نہیں جائے گا، یہ جن نفرت اور ہندو بالادستی کا ہے’۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ‘جس طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہے ہیں، دنیا کی توجہ اس سے ہٹانے کے لیے وہ فروری جیسا کوئی مس ایڈونچر کرسکتے ہیں، وہ اس طرح کا کوئی اقدام کریں گے جس میں پاکستان پر حملہ بھی شامل ہوسکتا ہے’۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا انہون نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں