21

امن مذاکرات کی منسوخی پر طالبان کا ردعمل سامنے آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان امن مذاکرات کی منسوخی پر طالبان کا ردعمل سامنے آگیا۔

ترجمان افغان طالبان کے مطابق امریکی ٹیم کے ساتھ مذاکرات مفید رہے اور معاہدہ مکمل ہوچکا ہے، فریقین معاہدہ کے اعلان اور دستخط کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی سلسلے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کی منسوخی کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی پہنچے گا، اس کا اعتماد اور ساکھ بھی متاثر ہوگی، امریکا کا امن مخالف رویہ واضح ہوکر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، اگر جنگ کی جگہ افہام وتفہیم کا راستہ اپنایا جائے تو ہم آخر تک اس کیلئے تیار ہوں گے اور امریکا سے سمجھوتے کی پوزیشن میں واپس آنے کی توقع کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 سال کی جدوجہد نے امریکا پر واضح کردیا ہم اپنا وطن کسی کےحوالے نہیں کریں گے۔

Zabihullah (..ذبـــــیح الله م )@Zabehulah_M33

د مذاکراتو په اړه د ډونالد ټرمپ د ټویټ په هکله د افغانستان د اسلامي امارت اعلامیه https://justpaste.it/6rswi 

View image on Twitter
277 people are talking about this

امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے دورے کا دعوت نامہ ہمیں اگست کے آخر میں زلمے خلیل زاد کے ذریعے ملا تھا تاہم دورے کو دوحا میں امن معاہدے کے دستخط تک مؤخر کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ امن معاہدے پر دستخط اور اعلان کے بعد 23 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کی تاریخ رکھی تھی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ امریکی کی جانب سے امن مذاکرات کی منسوخی کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فریقین حتمی معاہدے پر پہنچ چکے تھے اور دستخط ہونا باقی تھے۔

افغان طالبان اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں 9 دور ہوئے تھے جس کے بعد ہی فریقین حتمی معاہدے کے قریب پہنچے تھے، امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں