22

چین کاامن مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ

بیجنگ۔چین نے امریکہ اور طالبان کے مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کے حتمی حل کیلئے مذاکرات جاری رکھے جائیں۔ گذشتہ روز چین نے امریکہ اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مسئلہ کے حل کیلئے حتمی مذاکرات کیے جائیں۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں اور نتائج کے بارے میں بات کریں تا کہ افغانستان میں امن کا بیج بویا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فریقین سے افغانستان کے مسئلہ کے حتمی حل کیلئے شرائط تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے طالبان کے نمائندوں سے مذاکرات کی منسوخی کے حالیہ امریکی بیان کے بارے میں انہوں نے نقطہ اٹھایا کہ امریکہ اور طالبان نے مذاکرات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور وہ امن معاہدے کے لئے اصولوں پر مبنی اتفاق رائے تک پہنچ چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاہم اب افغانستان میں امن کے لئے مذاکرات کی حالیہ صورتحال غیریقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور امن و امان افغانستان کے 30لاکھ سے زائد باشندوں کی متفقہ خواہش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح بین الاقوامی برادری اور خطے کے عوام بھی امن کے خواہش مند ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ چین افغانستان میں افغان قیادت پر مشتمل امن و امان کی بحالی کے مذاکرات اور مستحکم مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلہ کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر افغان مسئلہ کے بارے میں دیئے گئے بیانات کو ذمہ دارانہ اور اصولوں کے مطابق واپس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے متعلقہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ چین پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات ایک خصوصی بین الاقوامی خطے کے تناظر میں ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو بعض مسائل اور خدشات درپیش ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے خطے کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ماضی کے بعض تنازعات دوبارہ اٹھ رہے ہیں جس سے خطے کے امن و سلامتی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں