36

مسئلہ کشمیرحل نہ ہوا تو علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے، صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو یہ علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ اقدامات سے بین الاقوامی معاہدوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ تصفیہ طلب مسئلہ ہے، بھارت جموں و کشمیر میں تمام پابندیوں کا خاتمہ کرے اور اقوام متحدہ کشمیری میں اپنےآزاد مبصربھجوائے، اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا توعلاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی سے اس وقت کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے، وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے، غاصب بھارتی افواج غیرقانونی گرفتاریاں اورکشمیری خواتین کی عصمت پامال کر رہی ہے، بھارت کی جنونی کارروائیوں سے 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی برداشت نہیں کی جائے گی۔

عارف علوی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کارروائیوں کاسرپرست رہا ہے، سنگین جرائم کی پاداش میں کلبھوشن کو موت کی سزا سنائی تھی، پلوامہ واقعے پر بھارت سے ثبوت مانگنے پر کوئی جواب نہیں ملا، بھارت پلوامہ حملے کو آڑ بناکر دراندازی کی کوشش کی، لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مارگرایا اور ایک پائلٹ بھی گرفتارکرلیا گیا، لیکن وزیراعظم نے خیرسگالی کے طور پر گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا، بھارت نے ہمارے اس رویئے کو ہماری کمزوری سمجھا، ہماری امن کا خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے، محصولات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، احتساب کے اصول بالائے طاق رکھ کر ماضی میں حکمرانوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ماضی میں دوسروں کی جنگ میں ملوث ہوناپاکستان کی بڑی غلطی تھی۔

عارف علوی نے کہا کہ معاشی اعتبار سے ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، اس لئے 2019 کے بجٹ میں سخت فیصلے کرنے پڑے، حکومت کی پالیسیوں سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، صحت انصاف کارڈ سے ڈیڑھ کروڑ افراد کا مفت علاج کیا جا رہا ہے، توانائی کا بحران کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، اب حکومت کو بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی پر توجہ دینا ہوگی، سیاحت کے فروغ کے لیے 175 ملکوں کے ساتھ آن لائن ویزا سسٹم متعارف کرایا، حکومت نے گندم، چاول اور گنے کی پیداوار بڑھانے کے لیےایمرجنسی پروگرام شروع کیا، کلین اور گرین پاکستان منصوبے کے تحت پاکستان میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے لیے فائدہ مند ہے، اس سے وسط ایشیا تک رسائی ہوگی، چین کے ساتھ آزادانہ تجارت سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے دروازےکھلیں گے، ہمسایہ ملک میں دیر پا امن سے تجارت کے لیے راہداریاں کھلیں گی۔

صدر کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر ملک کو ترقی دیں تاکہ پاکستان دیگر ملکوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے، حکومت اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر کام جلد مکمل کرے، پارلیمنٹ خواتین کی وراثت جیسے بل جلد منظور کرے، آبادی میں تیز رفتار اضافہ ملکی وسائل پر دباؤ کا باعث ہے، حکومت آبادی میں اضافے کے مسئلے پر آگاہی مہم چلائے معاشرے کی اصلاح کے لیےمسجد اور منبر انتہائی اہم ہیں، علمائے کرام آبادی میں اضافے کے منفی اثرات سےعوام کو آگہی دیں، ملک کی ترقی میں اداروں اور سول سروسز کا کردار انتہائی اہم ہے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران (ن) لیگی ارکان ایوان میں شاہد خاقان عباسی،سعد رفیق اور رانا ثنااللہ کی تصاویر لے آئے، اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی لیکن اس کے باوجود صدر مملکت نے اپنا خطاب جاری رکھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر کا خطاب سننے کے لیے ہیڈ فون لگا لیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں