26

مرغی کی قیمت بلند ترین سطح تک پہنچ گئی

کراچی: پولٹری صنعت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور زندہ مرغی کی قیمت اب تک کی بلند ترین سطح 270 سے 280 روپے جبکہ چکن کے گوشت کی قیمت 480 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

مرغی کی قیمتوں میں اس طرح اضافے نے گھر کے ماہانہ بجٹ پر کافی اثر ڈال دیا ہے جبکہ ریٹیلرز عاشورہ کے بعد شروع ہونے والے شادی کے سیزن کے باعث بڑھنے والی طلب کے مقابلے میں فارمز سے رسد میں کمی کو قیمتوں میں اضافے سے جوڑ رہے ہیں۔

اس حوالے سے ایک چکن فروش کا کہنا تھا کہ ‘بڑی پولٹری فارمرز غیرمتوقع فائدہ اٹھانے کے لیے فراہمی کو روک رہے ہیں’، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق بغیر ہڈی کے چکن کے گوشت کی قیمت 650 سے 700 روپے فی کلو ہوگئی ہے جو (بچھڑے) کے بغیر ہڈی کے گوشت کی قیمت سے زیادہ ہے۔

حیران کن طور پر کمشنر کراچی کی جانب سے جاری سرکاری نرخ میں مرغی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور برائلر زندہ مرغی اور اس کے گوشت کی قیمت بالترتیب 250 روپے اور 388 روپے فی کلومقرر کی گئی ہے، تاہم ان قیمتوں کو پولٹری صنعت کی جانب سے غیرحقیقی سمجھا جارہا اور شہر کے کسی بھی حصے میں ان قیمتوں کا اطلاق نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (پی پی اے) کے ایک رکن معروف صدیقی کا کہنا تھا کہ نقصانات کی وجہ سے گزشتہ 2 ماہ میں فارمرز نے پیداوار کے لیے ایک دن پرانے چوزے کو نہیں رکھا تھا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کو زندہ مرغی کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘زندہ مرغی اور اس کے گوشت کی قیمت کو بالترتیب 252 اور 410 سے 415 روپے فی کلو سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ مارکیٹ کے لوگ کم رسد کے مقابلے میں زیادہ طلب کا مکمل فائدہ اٹھارہے ہیں’۔

پی پی اے کے نمائندے کے مطابق کراچی میں یومیہ مرغیوں کو ذبح کیے جانے کی تعداد میں کمی ہوئی اور یہ چند ماہ قبل کی 8 سے 9 لاکھ یومیہ سے کم ہوکر 4 سے 5 لاکھ یومیہ ہوگئی۔ معروف صدیقی کا کہنا تھا کہ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمدی پولٹری غذا کے اجزا (سویابین، وٹامنز اور منرلز) کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولٹری کی قیمتیں صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ پورے میں دباؤ کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ عیدالاضحیٰ کے دنوں کے درمیان جب عمومی طور پر قربانی کے جانوروں کے گوشت کی وجہ سے اس کی طلب میں کمی ہوتی ہے، اس کے باوجود چکن کی قیمتیں زائد رہی تھیں اور فی کلو زندہ مرغی 210 سے 220 روپے اور اس کا گوشت 350 سے 360 روپے فی کلو میں فروخت ہوا تھا۔

صارفین کی آزمائش یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس عوام کو ایک اور جھٹکا دودھ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سہنا پڑ رہا ہے۔ کمشنر کراچی کی جانب سے کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں صارفین 110 سے 140 روپے فی لیٹر دودھ خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ دہی کی قیمت بھی علاقے کے حساب سے 140 سے 180 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔

ڈیری کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ڈیری فارمرز نے کاروبار کی بڑھتی ہوئی قیمت کو دیکھتے ہوئے کمشنر کراچی کو بھیجے گئے 24 روپے فی لیٹر اضافے کے مطالبے کے برخلاف قیمت میں 8 روپے 60 پیسے اضافہ کردیا تھا اور دودھ کی قیمت 93 روپے 60 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کمشنر کی جانب سے 2 سال قبل دودھ کی فی لیٹر قیمت 94 روپے مقرر کی گئی تھی، جس کو پیداوار کی لاگت بڑھنے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافے کی ضرورت ہے۔ شاکر عمر کا کہنا تھا کہ ریٹیلرز نے دودھ کی قیمت میں 46 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں قیمت 140 روپے تک پہنچ گئی اور اس سے نہ صرف لوگوں بلکہ ڈیری فارمز کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوگئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں