280

پردیس میں رمضان

ماہِ صیام میں دسترخوان کو النواع اقسام کے پکوان سے سجانے کا یہ دستور صرف برصغیر میں ہی نہیں ہے، بلکہ دیگر ممالک میں بھی اس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہندوستان سے لے کر دبئی، انڈونیشیا، عراق، مصر، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی ہماری طرح افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن خاص بات یہ ہے کہ ان ممالک کے دسترخوان پر جا بہ جا کچھ ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں، جس کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ مثلاً عرب ممالک میں رمضان کے موقع پر ’’ھریس‘‘ نامی پکوان ہر گھر میں بنایا جاتا ہے۔ یہ گندم اور گوشت سے تیار کیا جاتا ہے۔ جنوبی ہندوستان میں ’’السا‘‘ نام کا پکوان تیار کیا جاتا ہے، جو ھریس کی ہی دوسری شکل ہے اور عرب تاجروں کے ذریعے ہی یہاں متعارف ہوا۔ حیدر آبادی حلیم بنانے کا طریقہ بھی ھریس سے ملتا جلتا ہے۔ اس میں گوشت یا چکن اور گیہوں کی مقدار ایک جیسی ہوتی ہے اور اس کو پکانے کے لیے بہت سا وقت درکار ہوتا ہے۔

ھریس بنانے کے لیے ہمیں گوشت (ایک کلو)، چکنائی صاف کیا ہوا، گندم (ایک کلو)، دار چینی (ادھا چائے کا چمچا)، نمک (حسب ذائقہ)، کُٹی ھوئی کالی مرچیں (حسب ذائقہ)، گھی تقریبا (6 بڑے چمچے) درکار ہوتے ہیں۔

پہلے گندم کو تین گھنٹے یا پھر رات بھر کے لیے دو لیٹر پانی میں بھگو دیں۔ اس کے بعد گندم ابالیں، پھر کوشت کو ابال کر اس میں ملائیں۔ جب گندم اور گوشت گل جائے، تو اسے حلیم کی طرح گھوٹیں۔ اس کے بعد 150 ڈگری پر مائیکرو ویو میں اتنی دیر رکھیں کہ اس کا رنگ سنہری ہو جائے، پھر اون سے نکال کر دیسی گھی ڈال کر نوش کریں۔ عرب ممالک کا یہ مرغوب کھانا رمضان المبارک میں بھی بہت ذوق وشوق سے کھایا جاتا ہے۔

انڈونیشیا میں افطار کے وقت دسترخوان پر زیادہ تر پھل ہوتے ہیں، جس میں کھجور اور زیتون سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ مونگ پھلی سے تیار کردہ ایک خاص پکوان بھی شامل کیا جاتا ہے، جو حلوے کی مانند ہوتا ہے۔ عراق میں کھجور اور اس سے بنے ہوئے حلوے کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔ ویسے تقریباً سبھی ممالک میں روزہ کھولنے کے لیے کھجور کا ہی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن عراق اور سعودی عرب میں کھجور کی کچھ ایسی قسمیں موجود ہیں، جو یہاں دست یاب نہیں اور ان سے بنے ہوئے حلوے کی لذت کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ سعودی عرب میں ‘’الکبسہ‘‘ (میمنہ کے گوشت سے بنا ہوا بریانی کی مانند پکوان) زیادہ تر گھروں میں دسترخوان کی شان بنتا ہے، جو کہ وہاں کا قومی پکوان بھی ہے۔

مصر میں افطار کا دسترخوان دوسری جگہوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتا ہے۔ یہاں عموماً دودھ میں کھجوریں اور خشک میوہ جات بھگو کر رکھ لیے جاتے ہیں اور پھر اس سے ہی روزہ افطار کیا جاتا ہے۔ اس مشروب کو ’’خشاف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دوسری جگہوں کے مقابلے میں یہاں روزہ دار بہت ہلکا افطار کرتے ہیں اور بیش تر لوگ ’’کنافہ‘‘ اور ’’قطائف‘‘ جیسی مٹھائیاں استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ مٹھائیاں ہیں جو گندم، خشک دودھ اور میوہ جات سے بنائی جاتی ہیں۔

کشمیر میں فرنی اور حلوہ کیرالہ میں ’’بیف کٹ لیٹ‘‘ اور ’’ایراچی پتھیری‘‘ (گوشت بھری ہوئی پیسٹری)، حیدر آباد میں حلیم اور ’’مکس پنیر چاٹ‘‘ بنگال میں ’’ڈوئی ماچھ‘‘ (تلی ہوئی مچھلی کا خاص پکوان) اور ’’گاجر ملائی حلوہ‘‘ وغیرہ دسترخوان کی زینت بنتی ہیں۔

بہر حال، افطار کے لیے لذیذ پکوان دسترخوان پر پیش کرنا بہت اچھی بات ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان عبادات کا مہینا ہے، لہٰذا کھانے پکانے میں زیادہ وقت دینا قطعی صحیح نہیں ہے۔

افطار سے قبل دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے، جس وقت عام طور پر خاتون خانہ باروچی خانے سے گرم پکوڑے و سموسہ اور دیگر لوازمات دسترخوان پر رکھنے میں مصروف ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ افطار سے کم از کم 15 منٹ قبل تیاری مکمل کر کے آپ دسترخوان پر موجود ہوں۔ تاکہ آپ اور اہل خانہ مکمل احترام کے ساتھ روزہ افطار کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں